گیارہ حملوں میں پاکستانی فوج کے 11 اہلکار ہلاک، ایم آئی کے3 اہلکار گرفتارکرلئے، بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے)کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں گیارہ حملوں میں پاکستانی فوج کے 11 اہلکار وں کی ہلاکت اور ملٹری انٹیلی جنس کے 3 اہلکاروں کی گرفتاری کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 25 اپریل سے 3 مئی کے دوران گیارہ کارروائیاں سرانجام دیں، جن میں قابض فوج کے گیارہ اہلکار ہلاک ہوئے۔ ان حملوں میں قابض پاکستانی فوج، معدنیات لے جانے والی گاڑیوں اور آلہ کاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ چار آئی ای ڈی حملوں میں قابض فوج کو شدید جانی ومالی نقصانات سے دوچار کیا گیا، جبکہ ملٹری انٹیلی جنس کے تین اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا۔ قابض فوج کے ساتھ جھڑپوں میں بی ایل اے کے تین سرمچار، اسد عرف بابا درویش، شکیل الرحمان عرف شیخ عطاء اور شیہک عرف صدیق شہید ہو گئے۔

24 اپریل: نوشکی میں تاڑیز کے مقام پر قابض پاکستانی فوج سے جھڑپوں میں بلوچ لبریشن آرمی کے تین سرمچار، اسد جمالدینی عرف بابا درویش، شکیل الرحمان بنگلزئی عرف شیخ عطاء اور شیہک مینگل عرف صدیق شہید ہوگئے۔

25 اپریل: مستونگ، دشت میں پاکستانی خفیہ ادارے ایم آئی (ملٹری انٹیلی جنس) کے تین اہلکاروں کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ بھیس بدل کر علاقے میں نقل وحرکت کر رہے تھے۔ اہلکاروں سے ٹریسنگ ڈیوائسز برآمد ہوئیں، جبکہ گرفتار اہلکاروں سے مزید تفتیش جاری ہے۔

26 اپریل: سرمچاروں نے پنجگور، چیدگی مین روٹ پر گھنٹوں تک ناکہ بندی کی، اس دوران بارہ ٹرالر گاڑیوں کے ٹائر برسٹ (ناکارہ) کر کے ڈرائیوروں کو تنبیہ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔

27 اپریل: پنجگور میں چیدگی روٹ پر سرمچاروں نے ایک بار پھر ناکہ بندی کرکے گیارہ ٹرالر گاڑیوں کے ٹائر برسٹ کیئے اور ڈرائیوروں کو آخری بار تنبیہ کے بعد رہا کردیا۔

28 اپریل: سرمچاروں نے دالبندین میں تعمیراتی کمپنی کے اہلکاروں کے کوارٹر پر دستی بم سے حملہ کیا، جس میں کمپنی کے پانچ اہلکار زخمی ہوگئے۔

پنجگور، پروم: گومازی کے مقام پر سرمچاروں نے پاکستانی فوج کے اہلکاروں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ قافلوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیئے چیک پوسٹ پر پہنچے تھے، حملے میں دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔

29 اپریل: قلات شہر میں پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ پر سرمچاروں نے گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر دشمن کو جانی ومالی نقصان پہنچایا۔

1 مئی: دالبندین، چل گزی میں سرمچاروں نے ایک لیز پر کنٹرول حاصل کر کے سیکیورٹی اہلکاروں کا اسلحہ اور موٹر سائیکل تحویل میں لے لیا۔

2 مئی: پنجگور، چیدگی کے علاقے میں سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا۔ دھماکے میں قابض فوج کے پانچ اہلکار ہلاک اور دو شدید زخمی ہو گئے، جبکہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

پسنی، شادی کور: شادی کور کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑی کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔ گاڑی میں سوار چار اہلکار موقع پر ہلاک اور مزید چار شدید زخمی ہو گئے۔

دکی، لونی: سرمچاروں نے معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کی حفاظت پر مامور، قابض فوج کے تشکیل کردہ مسلح جتھے کے اہلکاروں کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا۔ دھماکے میں موٹر سائیکل پر سوار دو اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔

3 مئی: خاران، المرک میں قابض پاکستانی فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں کو سرمچاروں نے اس وقت آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جب وہ قابض فوج کی جارحیت کی غرض سے ‘کلیئرنس’ میں مصروف تھے۔ دھماکے میں تین اہلکار زخمی ہوگئے۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان تمام کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ مادرِ وطن کی آزادی تک ہماری کاری ضربیں دشمن پر اسی شدت کے ساتھ جاری رہیں گی۔

آخر میں جیئند بلوچ نے کہا کہ نوشکی کے محاذ پر قابض فوج سے مردانہ وار لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے بی ایل اے کے نڈر سرمچاروں، اسد جمالدینی عرف بابا درویش، شکیل الرحمان عرف شیخ عطاء اور شیہک مینگل عرف صدیق کو ان کی بے مثال قربانی اور بہادری پر سرخ سلام پیش کیا جاتا ہے۔ ان شہدا نے اپنے لہو سے مزاحمت کی جو شمع روشن کی ہے، وہ تحریکِ آزادی کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ بلوچ قوم کی بقا اور حاکمیت کی یہ جنگ اپنے شہدا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے غاصب کے مکمل انخلاء تک جاری رہے گی۔

Share This Article