بلوچستان میں گیس ذخائر میں کمی اور بڑھتی طلب کے باعث نئے گیس کنکشن پر پابندی عائد

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کی مرکزی حکومت نے بلوچستان میں مقامی گیس کے ذخائر میں مسلسل کمی اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث نئے گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے گیس کنکشنز پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بعد سوئی سدرن گیس کمپنی نے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نئے گیس کنکشنز کے اجرا کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ مقامی گیس کی پیداوار میں کمی اور موجودہ صارفین کو گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سردیوں کے موسم میں گیس بحران مزید شدت اختیار کر جاتا ہے، جس کے باعث نئے صارفین کو شامل کرنا موجودہ نظام پر اضافی دبا ڈال سکتا ہے۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ پابندی کے بعد کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں نئے گھریلو اور کمرشل درخواست گزاروں کے گیس کنکشن کیسز روک دیے گئے ہیں اور فی الحال کسی نئی درخواست پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ اس فیصلے سے خاص طور پر کوئٹہ اور دیگر سرد علاقوں کے شہری متاثر ہوں گے جہاں گیس بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت آر ایل این جی (RLNG) کے ذریعے نئے کنکشنز فراہم کرنے کی پالیسی پر غور کر رہی ہے تاکہ متبادل بنیادوں پر صارفین کو گیس کی سہولت دی جا سکے۔ تاہم آر ایل این جی کے تحت کنکشنز کے لیے ڈیمانڈ نوٹس، سیکیورٹی ڈپازٹ اور دیگر چارجز روایتی گیس کنکشنز کے مقابلے میں کافی زیادہ ہونے کا امکان ہے، جس سے عام صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق پاکستان میں گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جبکہ آبادی اور صنعتی ضروریات میں اضافے کے باعث طلب بڑھتی جا رہی ہے، جس سے حکومت کو توانائی کے متبادل ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے ۔

شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان سمیت سرد علاقوں کے عوام کے لیے خصوصی پالیسی مرتب کی جائے تاکہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ نئے صارفین کو بھی مناسب سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

Share This Article