بلوچستان کے ضلع خاران اور دیگر علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستانی سیکیورٹی فورسز ،ریاستی ملیشیا اور مسلح گروہوں کے درمیان تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
خاران میں روڈ کلیئرنس آپریشن میں مصروف پاکستانی فوجی اہلکاروں کو ایک اور دیسی ساختہ بم (IED) حملے کا نشانہ بنایا گیا، جو سیکیورٹی فورسز پر 24 گھنٹوں کے اندر پیش آنے والا چوتھا واقعہ ہے۔
حکام نے حملے کی تصدیق کی ہے، تاہم جانی نقصان سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
کسی گروہ نے تاحال ذمہ داری قبول نہیں کی۔
دوسری جانب مقامی ذرائع کے مطابق ایک اور علاقے میں مسلح افراد اور مبینہ طور پر سرکاری سرپرستی میں سرگرم مقامی گروہوں جنہیں عام طور پر "ڈیتھ اسکواڈ” کہا جاتا ہے کے درمیان کئی گھنٹوں سے جھڑپیں جاری ہیں۔
ان جھڑپوں میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص ایسا بھی شامل ہے جسے بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا قریبی رشتہ دار بتایا جا رہا ہے۔
ابتدائی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ مبینہ طور پر وزیراعلیٰ کے بھائی آفتاب بگٹی جھڑپ کے دوران ریاستی حمایت یافتہ مقامی ملیشیا کی قیادت کر رہے تھے۔
حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔