چیئرمین وائس فار بلوچ مسنگ پرسن نصراللہ بلوچ نے کہا ہے کہ اچھا ہوتا کہ گوادر مسئلے پر وزیراعظم عمران خان نوٹس اور کمیٹی کی بجائے احکامات جاری کرتا کیونکہ ایک مہینے سے گوادر کے عوام سراپا احتجاج ہے وزیراعظم نے مارچ میں ہمارے وفد سے ملاقات کے دوران ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ بلوچستان سے آئند کوئی بھی بلوچستانی لاپتہ نہیں ہوگا، مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بند ہوگا لیکن افسوس نہ تو لاپتہ افراد کا سلسلہ رکا اور نہ ہی مسخ شدہ لاشوں کا مسئلہ حل ہوا۔ہمارا سادہ مطالبہ تھا کہ ملکی قوانین کے تحت لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرکے انہیں اپنی دفاع کا حق دیا جائے۔
نصراللہ بلوچ کا کہنا تھاکہ گوادر میں گزشتہ ایک مہینے سے مولانا ہدایت اللہ نے جس جرأت کے ساتھ گوادر کے عوام کو درپیش مسائل پر کامیاب دھرنا دیا بلکہ انہوں نے لاپتہ افراد سمیت بلوچستان کے دیگر ایشوز پر بھی بہترین موقف پیش کیا۔
وزیراعظم کی جانب سے صرف گوادر دھرنے کا نوٹس اور کمیٹی کی بجائے انہیں چاہیے تھا کہ وہ احکامات جاری کرتا کیونکہ گوادر دھرنے کے شرکاء کے جتنے بھی مطالبات ہیں وہ ملکی آئین کے اندر ہیں، کمیٹیا ں بنانے کامقصد کسی مسئلے کو پست پشت ڈالنا ہے۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ حکمرانوں کی جانب سے گوادر کے عوام کے ساتھ جس طرح ظلم وزیادتی کا سلسلہ جاری ہے وہ اب تک بدستور جاری ہے کیونکہ صرف یقین دہانی سے مسئلے حل نہیں ہوتے آج بھی بلوچ نوجوانوں کو لاپتہ کیا جارہاہے اور مسخ شدہ بلوچوں کی لاشیں پھینکنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔