ریلیوں اور احتجاج پر پابندی عائد کرنا ماورائے آئین اقدام ہے،بی این پی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ایم این اے آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر بلوچستان کی جانب سے ریلیوں احتجاج پر آرڈیننس کے ذریعے پابندی عائد کرنا ماورائے آئین اقدام ہے کیونکہ عوام کو آئین کی روح سے انسانی بنیادی حقوق کے شق کے مطابق یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی جگہ رائے کا اظہار کر سکتے ہیں جب آئین میں حق حاصل ہے تو ایسے آرڈیننس غیر قانونی غیر آئینی اقدام کے مترادف عمل ہے۔

بلوچستان پہلے ہی ناروا سلوک اور ناانصافیوں کاشکار ہے عوام احساس محرومی سماجی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ایسے اقدامات سے یقینا محرومیوں میں اضافہ ہو گا جمہوری دور میں ایسی پابندیاں اور آرڈیننس کے ذریعے انسانی حقوق کے خلاف اقدام اٹھانا کسی بھی صورت بہتر اقدام نہیں بی این پی قومی جمہوری سیاست جماعت ہے جس نے ہمیشہ عوام کے حقوق کے حصول کیلئے سیاسی جمہوری قومی جدوجہد کا راستہ اپنایا سوال حکمران ہوں یا آمر ہر دور میں عوام کے حقوق کی خاطر جمہوری انداز میں جدوجہد کی ماورائے آئین اقدام کے ذریعے بلوچستان کے عوام و دیگر طبقہ کو اظہار رائے سے محروم رکھا جا رہا ہے آئین میں ہر ایک شہری کوحق حاصل ہے کہ وہ جمہوری انداز میں رائے کا اظہار کرے یہ کیسے ممکن ہے کہ بنیادی حقوق کو آرڈیننس کے ذریعے ختم کیا جائے۔

انسانی بنیادی حقوق کے آرٹیکل کے ذریعے حق حاصل ہے غیر قانونی غیر آئینی آرڈیننس جمہوریت اور جمہوری اداروں کے خلاف ہے عدالت عظمی عدالت عالیہ فوری طور پر نوٹس لے کہ بلوچستان میں ماورائے آئین اقدامات کئے جا رہے ہیں اب تو عوام سے بولنے کا حق چھیننا جا رہا ہے آمر دور میں بھی ایسے اقدامات نہیں کئے گئے سردار اختر جان مینگل نے ہر دور میں اصولی سیاست کی اور عوام کی خاطر بیش بہا قربانیاں دیں ایسے غیر آئینی اقدامات کے خلاف پارٹی ہر فورم پر آوا ز بلند کرے گی۔ بی این پی عوام دوست جماعت ہے جو حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کرتی رہی ہے آرڈیننس میں اب بات کا ذکر کرنا کہ کوئی اپنی رائے کا اظہار کرے گا تو اس قیدوبند اور جرمانے کی سزا دی جائے گی ایسے آرڈیننس مارشل لادور کی عکاس ہے بی این پی آرڈیننس کی مخالفت کرے گی اور سینیٹ قومی اسمبلی میں آواز بلند کریں گے۔

Share This Article
Leave a Comment