زیر نظر تصویر جوکہ ایک فوجی چھاؤنی کی منظر پیش کر رہی ہے لیکن یہ دراصل ایک درسگا ہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
یہ گورنمنٹ ہائی سکول کوڑاسک ہے جو ڈسٹرکٹ خضدار کے تحصیل نال کے یونین کونسل کوڑاسک میں واقع ہے۔ یہ اسکول گزشتہ چار سالوں سے پاکستان آرمی کے قبضے میں ہے۔ 2018 سے لیکر آج تک یونین کونسل کوڑاسک کے باسی اپنے مستقبل کے معماروں کے مستقبل کے لیے انتہائی پریشان ہیں اور کوڑاسک کے نوجوان طالب علم اپنے علم کی پیاس بجھانے کے لیے در در کی ٹوکریں کھانے پر مجبور ہیں لیکن حکام بالا کی طرف سے 400 سے زاہد بچے اور بچیوں کی مستقبل کی تباہی پر کوئی توجہ دلاؤ نوٹس تو اپنی جگہ انہیں آج تک یہ معلوم نہیں کہ ہائی سکول کوڑاسک محکمہ تعلیم کے زیر استعمال میں ہے یا وہ اداروں کی قبضے میں ہے۔ جن کاکام بارڈر سنبھالنا ہے نہ قوم کے مستقبل کے ساتھ کھیلنا ہے حالانکہ تعلیم قوموں کا بنیادی حق ہے لیکن پاکستان آرمی نے ہمیں تعلیم حاصل کرنے کی حق سے بھی محروم کیا ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ ہمارے تعلیمی تربیت کرنا تو اپنی جگہ ہمیں علم جیسے روشن نور سے جان بوجھ کر اندھیرے میں دھکیل دے رہے ہیں۔2018 میں یونین کونسل کوڑاسک میں پاکستان آرمی کے آمد کے بعد کوڑاسک کے تمام جدی پشتی رہائشی اپنے بچوں کی متاثر تعلیم پر بہت پریشان ہیں۔ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ رات آرمی والے ہمارے کلاس رومز میں رہائش کرتے ہیں اور دوران رہائش جب ہم صبح سویرے پڑھنے کی غرض سے اسکول جاتے ہیں تو کلاس روم میں اپنے نشست پر آرمی والوں کے فون نمبرز ہمیں نازیبا جملوں کے ساتھ ملتے ہیں۔
پاکستان آرمی کے اس وحشیانہ عمل کی وجہ سے کہیں بچیوں نے خوف و ڈر سے اسکول میں پڑھنا چھوڑ دیا ہے۔ اسطرح کے اعمال ہمارے لیے انتہائی شرم کا مقام ثابت ہونگے کیونکہ ایک باعزت قوم کے فرزند ہیں۔ ایک اور طالب علم کا کہناہے کہ جب سیکورٹی فورسز کی شفٹنگ یا ٹرانسفرز ہوتی ہیں تو ہفتوں تک اسکول بندہوتے ہیں تو ہمارے پڑھائی متاثرہوتی ہے۔ ویسے ہمارے اسکول میں بچوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔فی کمرہ جماعت میں دو سے تین جماعتیں اکھٹے اپنی اپنی پڑھائی میں بحالت مجبوری مشغول ہیں۔ جناب صدرمعلم کی بے بسی میں سیکورٹی فورسز کے ہاں پر ہاں بازی سے ہماری مستقبل تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔
ٖ
ہم یہ سمجھنے سے قاصر نہیں ہونگے کہ ہائی اسکول کوڑاسک کے ہیڈ ماسٹر بھی ایک صوبیدار کے ماتحت ہیں۔حالانکہ ایک فوجی صوبیدار کاکام اپنے ماتحت فوجیوں کانگرانی کرنا ہے نہ ایک تعلیمی ادارے کا چارج سنھبالنا ہے۔ اسکول کے آس پاس میں خاردار تاریں اور تیز دھار آلے سیکورٹی فورسز نصب کررہے ہیں جو کہ ہائی سکول کوڑاسک اب مکمل ایک فوجی چھاؤنی کی یا فوجی کینٹ لگ رہی ہے اور مستقبل قریب میں بڑے فوجی کمین گاہ میں تبدیل ہونے کا امکان لگ رہا ہے۔
ہم اہلیان کوڑاسک انتظامیہ کو نوٹس لینے کی اپیل سے تھک چکے ہیں لیکن انتظامیہ بھی صدرمعلم ہائی اسکول کوڑاسک کی طرح بے بسی کا اظہار کررہے ہیں۔ ہم ہائی اسکول کوڑاسک کے طالب علم بلوچستان کے تمام قوم پرست جماعتوں طلباء تنظیموں اور دیگر علم دوست طبقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا ہماری آواز بنیں اور ہمارے فریاد کو حکام بالا تک پہنچائیں اور علم دوستی کامظاہرہ کریں اور ہماری روشن مستقبل کو اندھیرے سے بچانے میں کردار ادا کریں۔
٭٭٭