حب میں منگل کے روز پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی شناخت رضا محمد (رزو) ولد واحد بخش اور حیات ولد نصیب سکنہ پیراندر ضلع آواران کے نام سے ہوئی ہے۔
دونوں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے منحرف سرمچار تھے جنھیں سرینڈر ہونے کے دس دن بعد ایم آئی اہلکاروں نے دارو ہوٹل حب میں واقع گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا اور لگ بھگ ایک مہینے تک جبری لاپتہ رکھنے کے بعد ایک جعلی مقابلے میں قتل کرکے ان کی لاشیں ضلع لسبیلہ کے علاقے حسن پیر ساکران حب میں سسی پنوں کی پہاڑیوں میں پھینک دیں بعد ازاں سی ٹی ڈی بلوچستان کے ترجمان نے انھیں بی ایل ایف کے سرمچار ظاہر کرکے جعلی مقابلے کا دعوی کیا۔
دونوں ڈیڑھ مہینے پہلے سرینڈر ہوچکے تھے جنھیں ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ غفور میروانی ولد عبدالحکیم میروانی نے سرینڈر کروایا تھا اور ان کے سرینڈر کے لیے آتے وقت ان کے استقبال میں خود گیا تھا۔
حیات ولد نصیب کے بارے میں پتا چلا ہے کہ ان کے ایک بھائی ”شہید ولی جان“ جہد آزادی کی کاروان میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔
مذکورہ دونوں افراد کے قتل کی وجوہات کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہوسکا تاہم اس سے قبل بھی پاکستانی فوجی منحرف سرمچاروں اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کو قتل اور جبری لاپتہ کرچکے ہیں۔
سی ٹی ڈی بلوچستان کے ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی بلوچستان کی جانب سے تھانہ ساکران، ضلع لسبیلہ کی حدود میں ھب کے علاقے میں ایک بڑا انٹلی جنس بیسڈ کارروائی کی گئی جس میں دو مسلح افراد مارے گئے جن سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔