کوئٹہ میں نابینا افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق دور حکومت میں معزور افراد کے کوٹے پر 19افراد غیرقانونی طور پر لگے ہیں جو ہم معذوروں کے ساتھ ناانصافی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان ہمیں ہمارا حق دے بصورت دیگر مجبوراً وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا دینگے۔
ان خیالات کا اظہار معزور افراد کے نمائندوں اشر ف زیارتوال، عمران حکیم نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا نابینا افراد نے پلے کارڈز اٹھارکھے تھے اور جن پر مطالبات درج تھے کہ ہمیں تعلیم، صحت کی سہولیات اور معزور افراد کے کوٹے پر صحت مند افراد کی بھرتی کو فوری طور منسوخ کیا جائے ہمیں ہمارا حق دیا جائے بصورت دیگر مجبوراً وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینگے۔
جب تک ہمارے مطالبات حل نہیں ہونگے اس وقت تک ہم وہاں سے نہیں اٹھینگے نابینا افراد نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کی اور یہ عہد کیا کہ جب تک ہمارے مطالبات حل نہیں کیے جاتے ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اگر پھر بھی مطالبات حل نہ کیے گئے تو مجبوراً وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے دفتر کے سامنے دھرنادینگے۔