بلوچستان کے ضلع کوہلو کے علاقے کاہان سے پاکستانی فورسز نے گذشتہ روز پانچ افراد کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔
مقامی میڈیا دی بلوچستان پوسٹ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ کاہان کے علاقے پیشی میں گذشتہ روز پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے ڈیتھ اسکواڈ اہلکاروں کے ہمراہ ناکہ بندی کرکے گھروں پر چھاپے مارے اور پانچ افراد کو جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا۔
جبری طور پر لاپتہ افراد میں بخش علی کے تین بیٹے بابو، بیڑا اور وڈو شامل ہیں جبکہ دیگر دو افراد کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ مذکورہ تمام افراد مالداری کے شعبے سے منسلک ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ کئی مہینوں سے جبری گمشدگیوں کے واقعات رونماء ہورہے ہیں جبکہ لوگوں کو فورسز کیمپ میں حاضری لگانے کا پابند کیا گیا ہے۔
اسی علاقے میں رواں سال اپریل کے مہینے میں فورسز اہلکاروں کی فائرنگ سے دو افراد جانبحق اور ایک شخص زخمی ہوا تھا، جانبحق ہونے والے افراد کی شناخت جندو اور ولی داد کے ناموں سے ہوئیں جبکہ زخمی شخص کی شناخت غلائند ولد جندو کے نام سے ہوئی ہے جس کو فورسز نے زخمی حالت میں نامعلوم مقام پر منتقل کیا جو تاحال لاپتہ ہے۔
ایک اور واقعے میں اپریل کے مہینے میں لاپتہ کیے جانے والے علی بیگ کو سی ٹی ڈی نے جعلی مقابلے میں مارواڑ کے مقام پر قتل کیا جبکہ اس کے ہمراہ لاپتہ جلالو ولد نذر خان اور علی بیگ کا بیٹا تاحال لاپتہ ہے۔