پینڈورا پیپرز میں پاکستانی جرنیل وسیاستدانوں کے خفیہ دولت کا انکشاف

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

تحقیقاتی صحافت میں معروف صحافیوں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) ‘پاناما پیپرز’ کے بعد ایک اور بڑے مالیاتی اسکینڈل ‘پینڈورا پیپرز’ کو سامنے لے آئی ہے جس میں پاکستان سمیت دنیا کے متعدد موجودہ و سابق سربراہان مملکت، سیاست دانوں، صنعت کاروں، بیورو کریٹس، ریٹائرڈ فوجی افسران کی آف شور کمپنیاں بتائی جا رہی ہیں۔

مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی دنیا کی مختلف 14 کمپنیوں کی لگ بھگ ایک کروڑ 20 لاکھ فائلز کے ایک جائزے کے مطابق 200 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی بیرونِ ملک خفیہ دولت کی تفصیلات کا انکشاف ہوا ہے۔

آئی سی آئی جے کی طرف سے جاری کردہ اس تفصیلی رپورٹ میں پاکستان کے سیاست دان، بیورو کریٹس، کاروباری شخصیات اور فوجی افسران سمیت 700 پاکستانیوں کے نام بھی ان پیپرز میں شامل ہیں۔

پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی شب ساڑھے نو بجے آئی سی آئی جے نے اس حوالے سے اپنی ویب سائٹ پر ’پینڈورا پیپرز‘ کے عنوان سے تفصیلات جاری کیں جن پر 117 ممالک سے تعلق رکھنے والے 600 صحافیوں نے دو سال تک کام کیا تھا۔

پنڈورا پیپرز میں 200 سے زائد ممالک کی 29000 آف شور کمپنیوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں، ان آف شور کمپنیوں کی ملکیت 45 ممالک سے تعلق رکھنے والی 130 ارب پتی شخصیات کے پاس ہے۔

لیکن تنظیم نے اس بات کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں کہ اسے یہ معلومات یا ڈیٹا کس طرح حاصل ہوا۔

آئی سی آئی جے کے مطابق پینڈورا پیپرز میں 14 آف شور سروس فرمز شامل ہیں، پینڈورا پیپرز کے لیے آئی سی آئی جے نے تقریباً تین ٹیرا بائٹس کی خفیہ معلومات حاصل کیں۔

اس تحقیقات کا عنوان ‘پینڈورا پیپرز’ اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس میں اشرافیہ کے خفیہ لین دین اور مجموعی طور پر کھربوں ڈالر کی جائیدادوں کو آف شور اکاؤنٹس کے ذریعے چھپانے کی کوششوں کو طشت از بام کیا گیا ہے۔

یہ بنیادی طور پر یونانی روایات سے اخذ کردہ نام ہے اور اس سے ایک ضرب المثل ‘پینڈورا بکس کھولنا’ انگریزی اور اب اردو میں بھی رائج ہے۔ اس سے مراد کسی ایسی چیز کو سامنے لانا ہے جو کئی لوگوں کے لیے مسائل کا سبب بن سکتی ہو۔

واضح رہے کہ آئی سی آئی جے اس سے قبل 2016 میں بھی دنیا کے سیکڑوں عالمی رہنماؤں، سیاست دانوں، کاروباری افراد، جرائم پیشہ افراد اور مختلف شعبوں کی معروف شخصیات کے مالیاتی اثاثوں کے بارے میں ‘پاناما پیپرز’ کے نام سے تفصیلات سامنے لاچکی ہے۔

پنڈورا پیپرز کی تیاری کے لیے پاکستان سے دو صحافی اس عمل میں شامل رہے، جن میں پاناما پیپرز پر کام کرنے والے عمر چیمہ اور مقامی انگریزی اخبار ‘دی نیوز’ کے نمائندے فخر درانی شامل ہیں۔

آئی سی آئی جے کی طرف سے جاری ہونے والی فہرست کے مطابق ان پیپرز میں 700 پاکستانی باشندے بھی شامل ہیں جن کی بیرونِ ملک آف شور کمپنیاں ہیں۔

ان افراد میں شامل نمایاں ناموں میں موجودہ وزیرِ خزانہ شوکت ترین، سینیٹر فیصل واوڈا، وفاقی وزیر مونس الہیٰ، پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن، مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار، وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی عمر بختیار، راجہ نادر پرویز، سینئر وزیر عبدالعلیم خان، سابق معاون خصوصی وزیراعظم وقار مسعود کے بیٹے کا نام بھی شامل ہے۔

پیپرز کے مطابق ابراج گروپ کے سی ای او عارف نقوی، بول ٹی وی اور ایگزٹ کمپنی کے مالک شعیب شیخ، نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر عدنان آفریدی، ٹریڈر بشیر داؤد، نیشنل بینک کے صدر عارف عثمانی، امپریل شوگر مل کے مالک نوید مغیث شیخ سمیت متعدد بینکاروں کے نام موجود ہیں۔

پاکستان فوج کے سابق افسران یا ان کے اہلِ خانہ کے نام بھی پنڈورا پیپرز میں سامنے آئے ہیں۔

پاکستان فضائیہ کے سابق سربراہ عباس خٹک کے دو صاحبزادوں کے علاوہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) شفاعت اللہ، میجر جنرل (ر) نصرت نعیم اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) افضل مظفر کے صاحبزادے، جنرل (ر) خالد مقبول کے داماد احسن لطیف، زہرہ تنویر اہلیہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) تنویر طاہر، کرنل (ر) راجہ نادر پرویز اور جنرل (ر) علی قلی خان کی ہمشیرہ کی بھی آف شور کمپنیاں ہیں۔

آئی سی آئی جے کے مطابق پینڈورا پیپرز میں 90 سے زائد ممالک اور علاقوں کے 330 سے زائد موجودہ اور سابق سیاست دانوں سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں کئی موجودہ و سابق سربراہان مملکت اور ان کے قریبی ساتھیوں کے نام بھی ہیں۔

پینڈورا پیپرز میں اُردن کے بادشاہ عبداللہ دوم، برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر، چیک ری پبلک کے وزیرِ اعظم آندرے بابس، کینیا کے صدر اہورو کنیاتا کے نام شامل ہے۔

اس کے علاوہ روسی صدر کے سابق متعلقین اور پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت میں شامل افراد اور سابق قریبی ساتھیوں کے نام بھی پینڈورا پیپرز میں شامل ہیں۔

فہرست میں قطر کے سابق امیر شیخ صباح الاحمد الصباح، قطر کے سابق وزیرِ اعظم حماد بن جاسم التھانی، بحرین اور موزمبیق کے سابق وزرائے اعظم، اردن کے دو سابق وزرائے اعظم، ایل سلواڈور کے دو سابق صدور، پاناما کے چار سابق صدور اور لبنان کے سابق وزیرِ اعظم حسن دیاب کے نام بھی شامل ہیں۔

سیاست دانوں کے علاوہ پینڈورا پیپرز میں کولمبیا سے تعلق رکھنے والی معروف گلو کارہ شکیرا، بھارت کے لیجنڈ کرکٹر سچن ٹنڈولکر اور جرمن سپر ماڈل کلاڈیا سکفر کے نام بھی شامل ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment