جبری لاپتہ راشد حسین کی بہن فریدہ بلوچ نے کہا ہے کہ ہمارے گھر پر اس لیے چھاپہ مارا گیا ہے تاکہ ہم راشد حسین کی بازیابی کے مطالبے سے دستبردار ہوجائیں اور اس کی جبری گمشدگی کے کیس کی پیروی نہ کریں۔
انھوں نے کہا سندھ رینجرز، خفیہ اداروں کے اہلکار اور دیگر فورسز نے ہمارے گھر پر ڈکیتوں کی طرح حملہ کیا اور گھر میں زیورات سمیت دیگر قیمتی سامان کو لوٹ لیا اور میرے بہنوئی کو ان کے گھر نیول کالونی کراچی سے جبری لاپتہ کیا گیا۔
انھوں نے یہ باتیں نشریاتی ادارے ”ریڈیو زرمبش“ کی نیوز کاسٹر سارین بلوچ سے گفتگو کرتے ہوئے کیں۔
انھوں نے کہا خفیہ اداروں اور کی اس بزدلانہ حرکت کی وجہ یہی ہے کہ ہم پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ ہم راشد کے کیس سے دست بردار ہوجائیں۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے اس سے قبل بھی وہ ہماری عمررسیدہ والد کو فون پر دھمکی دیتے رہے ہیں، ان کا پیچھا کرکے ان کو نقصان دینے کی کوشش کرتے تھے۔میرے بہنوئی کو ان کے گھر واقع نیول کالونی کراچی سے اغوا کیا گیا جو تاحال ان کے قید میں ہیں۔
جبری لاپتہ راشد حسین کی بہن نے کہا ہمارے اور ہمارے رشتہ داروں کے گھر گذشتہ رات تین بجے دھاوا بولا گیا۔ میں اس کو کوئی چھاپہ نہیں کہوں گی۔کیونکہ اس کی کوئی قانونی حیثیت۔گذشتہ رات سندھ رینجرز، دیگر فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکار کوئی قانونی کاغذات دکھائے بغیر ہمارے گھروں پر چڑھائی کی۔مذکورہ اہلکاروں نے ڈکیتوں کی طرح دیواریں پھلانگیں، میرے والدین اور دیگر رشتہ داروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر میں زیورات سمیت دیگر چیزوں کا صفایا کیا۔
فریدہ بلوچ نے کہا والدہ نے ڈی چوک اسلام آباد کے علاوہ بلکہ ڈھائی سال سے راشد کی بازیابی کے لیے تمام ذرائع استعمال کیے ہیں۔لاپتہ افراد کے کمیشن کے سامنے پیش ہوئے ہیں، سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کیا جو خفیہ اداروں کی ایما پر خارج کیا گیا۔ پھر میری والدہ نے بلوچستان ہائی کورٹ میں کیس جمع کرایا لیکن کوئی بتانے کو تیار نہیں کہ راشد حسین کہاں ہیں۔
’ہمارے بھائی متحدہ عرب امارات کے خفیہ اداروں نے پاکستان کے کہنے پر اغوا کرکے چھ مہینے تک جبری لاپتہ کرنے کے بعد غیرقانونی طور پر پاکستان کے حوالے کیا۔جو 22 جون 2019 سے پاکستان میں جبری لاپتہ ہے۔پاکستانی میڈیا نے راشد حسین کی پاکستان حوالگی کی خبر کو بریک کیا اور جیو نیوز میں بھی یہ خبر چلائی گئی۔‘