راشد حسین کیس سے دستبردار کرانے کیلئے گھرپر چھاپہ ماراگیا، فریدہ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

جبری لاپتہ راشد حسین کی بہن فریدہ بلوچ نے کہا ہے کہ ہمارے گھر پر اس لیے چھاپہ مارا گیا ہے تاکہ ہم راشد حسین کی بازیابی کے مطالبے سے دستبردار ہوجائیں اور اس کی جبری گمشدگی کے کیس کی پیروی نہ کریں۔

انھوں نے کہا سندھ رینجرز، خفیہ اداروں کے اہلکار اور دیگر فورسز نے ہمارے گھر پر ڈکیتوں کی طرح حملہ کیا اور گھر میں زیورات سمیت دیگر قیمتی سامان کو لوٹ لیا اور میرے بہنوئی کو ان کے گھر نیول کالونی کراچی سے جبری لاپتہ کیا گیا۔

انھوں نے یہ باتیں نشریاتی ادارے ”ریڈیو زرمبش“ کی نیوز کاسٹر سارین بلوچ سے گفتگو کرتے ہوئے کیں۔

انھوں نے کہا خفیہ اداروں اور کی اس بزدلانہ حرکت کی وجہ یہی ہے کہ ہم پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ ہم راشد کے کیس سے دست بردار ہوجائیں۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے اس سے قبل بھی وہ ہماری عمررسیدہ والد کو فون پر دھمکی دیتے رہے ہیں، ان کا پیچھا کرکے ان کو نقصان دینے کی کوشش کرتے تھے۔میرے بہنوئی کو ان کے گھر واقع نیول کالونی کراچی سے اغوا کیا گیا جو تاحال ان کے قید میں ہیں۔

جبری لاپتہ راشد حسین کی بہن نے کہا ہمارے اور ہمارے رشتہ داروں کے گھر گذشتہ رات تین بجے دھاوا بولا گیا۔ میں اس کو کوئی چھاپہ نہیں کہوں گی۔کیونکہ اس کی کوئی قانونی حیثیت۔گذشتہ رات سندھ رینجرز، دیگر فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکار کوئی قانونی کاغذات دکھائے بغیر ہمارے گھروں پر چڑھائی کی۔مذکورہ اہلکاروں نے ڈکیتوں کی طرح دیواریں پھلانگیں، میرے والدین اور دیگر رشتہ داروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر میں زیورات سمیت دیگر چیزوں کا صفایا کیا۔

فریدہ بلوچ نے کہا والدہ نے ڈی چوک اسلام آباد کے علاوہ بلکہ ڈھائی سال سے راشد کی بازیابی کے لیے تمام ذرائع استعمال کیے ہیں۔لاپتہ افراد کے کمیشن کے سامنے پیش ہوئے ہیں، سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کیا جو خفیہ اداروں کی ایما پر خارج کیا گیا۔ پھر میری والدہ نے بلوچستان ہائی کورٹ میں کیس جمع کرایا لیکن کوئی بتانے کو تیار نہیں کہ راشد حسین کہاں ہیں۔

’ہمارے بھائی متحدہ عرب امارات کے خفیہ اداروں نے پاکستان کے کہنے پر اغوا کرکے چھ مہینے تک جبری لاپتہ کرنے کے بعد غیرقانونی طور پر پاکستان کے حوالے کیا۔جو 22 جون 2019 سے پاکستان میں جبری لاپتہ ہے۔پاکستانی میڈیا نے راشد حسین کی پاکستان حوالگی کی خبر کو بریک کیا اور جیو نیوز میں بھی یہ خبر چلائی گئی۔‘

Share This Article
Leave a Comment