بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مون سون کی بارشیں جاری،بارشوں کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، فصلیں تباہ اور کچے مکانات منہدم ہوئے ہیں،مختلف علاقوں میں بارش وسیلابی ریلوں میں بہہ جانے سے 6افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں، درجنوں دیہات زیر آب آگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جمک جانے والی مسافر گاڈی سوراپ ندی کے سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔خاتون سمیت دو افراد جان بحق،چار مسافر لاپتہ، ہائی سکول ناصرآباد کی چاردیواری گرنے سے ایک ہلاک تین زخمی ہوگئے۔ تربت میں بدھ کی شام برسنے والی بارش نے تباہی مچادی، تربت سے جمک جانے والے پک اپ مسافر گاڈی مرگاپ کے قریب سوراپ ندی میں بہہ گئی جس سے گاڈی میں سوار تمام مسافر سیلابی ریلے میں بہہ کر لاپتہ ہوگئے جن میں ایک خاتون اور بچے کی لاش بعد ازاں ندی سے برآمد کرلی گئی۔
جبکہ چار مسافر اب تک لاپتہ ہیں، اسسٹنٹ کمشنر تربت عقیل کریم نے بتایاکہ لیویز فورس کے اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ روانہ کردی گئیں جنہوں نے سیلابی ریلے میں بہنے والے تینوں مسافروں کی تلاش شروع کردی ہے۔ ادھر ہائی اسکول ناصرآباد کی چاردیواری تیز ہوائیں چلنے کے باعث زمین بوس ہوگئی جس سے ابتدائی اطلاع کے مطابق ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں،علاوہ ازیں ڈپٹی کمشنر جھل مگسی ڈاکٹر شرجیل نور نے کہا کہ جھل مگسی میں طوفانی ہوائیں، بارشیں، سینکڑوں، کچے مکانات دیواریں زمین بوس، صورتحال کنٹرول میں ہے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
بلوچستان کے کراچی سے ملحقہ صنعتی شہر حب اور ساحلی علاقے گڈانی میں حالیہ مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے دن بھرحبس اور شدید گرمی کے بعد سہ پہر کے وقت حب میں بارش ہوئی جو کچھ دیر تک جاری رہی بارش کے بعد گر می کا زور ٹوٹ گیا اور موسم خوشگوار ہوگیا۔
گلی محلوں میں بارش کے کھڑے پانی سے راہ گیروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا بارش کے فوری بعد تیز ہوائیں چلنا شروع ہوئیں ادھر بلوچستان کے ساحلی علاقے گڈانی میں بھی تیز طوفانی ہواؤں کے ساتھ موسلادھا ر بارش ہوئی،بارش کے دوران بجلی کے کھمبے اور دفاتر ود کانوں کے سائن بورڈز گرنے کی اطلاعات بھی ملی ہیں،علاوہ ازیں پسنی میں موسلادھار بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے متعدد ماہی گیری کشتیاں ٹھوٹ پھوٹ کا شکار،انجن پانی میں بہہ گئے۔
ماہیگیروں کا کہناہے کہ لاکھوں مالیت کے نقصان کا ذمہ موجودہ جام کمال کی حکومت ہے کہ جیٹی کی بحالی کے گزشتہ برسوں سے فنڈ موجود ہونے کے باوجود جیٹی کی بحالی میں تاخیری حربے حکومت و وزیر اعلیٰ بلوچستان کی غیر سنجیدگی کا واضع ثبوت ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر آج جیٹی بحال ہوتی تو ہم غریب ماہیگیر روزانہ کی بنیاد پر اس طرح کے نقصانات کا شکار نہ ہوتے۔ مزید انہوں نے صوبائی حکومت و وزیر اعلیٰ بلوچستان سے اپیل کی کہ خدارا ان کے بچوں پر رحم کرکے انکی جیٹی کو بحال کریں تاکہ انکی ماہیکیری سے وابستہ اوزار و اسباب محفوظ ہو ں۔
گزشتہ شب مکران کے دیگر علاقوں کی طرح پسنی میں بھی بارش اور تیز ہوا نے طوفانی کیفیت پیدا کردی، تیز ہوا سے کجھور کی کھڑی درخت رہائشی گھروں پر گر گئے جبکہ پسنی کے سمندری کٹاؤ نامی علاقے میں متعدد ماہی گیری کشتیاں ٹھوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئیں کشتیوں کے انجن پانی میں بہہ گئے ماہی گیروں کے مطابق ایک انجن کی قیمت پانچ سے چھ لاکھ روپے ہے،کوہلو کے مختلف علاقوں ماوند،منجھرا،گرانڈ وڈھ،تمبوسمیت دیگر علاقوں میں شدید بارشوں نے تباہی مچا دی،سیلابی ریلا میں ایف سی کی گاڑی بہہ جانے سے ایک اہلکار جان بحق،ایک لاپتہ جبکہ ونگ کمانڈر سمیت چار اہلکاروں کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا ہے،مختلف مقامات پر رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے کوہلو کا مختلف شہروں سے زمینی رابطہ منقطع،درجنوں جانور سیلابی ریلے میں بہہ گئے مختلف دیہات زیر آب کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔
دالبندین میں ریلوے ٹریک کو سیلابی ریلوں سے نقصان پہنچنے کے باعث پاک ایران ریل سروس معطل ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر دالبندین محمد جاوید ڈومکی کا کہنا ہے کافی تعداد میں لوگوں کے مکانات کے چتیں اور چار دیواریاں گر گئے کافی لوگوں کے مالی نقصان ہوا ہے ابتک طوفانی بارش سے دو افراد جان بحق جبکہ آٹھ زخمی ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔
ابتدائی طور پر انھیں دالبندین ہسپتال میں طبی امداد دی گئی ہے ادھر چیئرمین سینٹ حاجی محمد صادق خان سنجرانی کے احکامات پر دالبندین میں انکے لوگ متحرک نظر آئے بی اے پی چاغی کے ضلعی صدر میر اسفندیارخان یار محمد زئی حاجی محمد صادق خان سنجرانی اور رخشان ڈویڑن کے آرگنائزر میر اعجاز خان سنجرانی کے ہدایت پر دالبندین متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے لوگوں کے ساتھ ہر قسم کی تعاون اور بروقت انکو سہولت دینے کی کوششوں میں مصروف رہے۔