جبری گمشدگیاں: مزار خان کو11 سال اورنصیب اللہ بادینی کو7 سال ہو گئے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

جبری گمشدہ مزار خان کے لواحقین 11 سال سے اسکے واپسی کے منتظر،جبکہ نصیب اللہ بادینی کی جبری گمشدگی کو 7 سال ہوئے ہیں

ضلع نوشکی سے پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار نصیب اللہ بادینی کے لواحقین کا کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے کیمپ آمد، والدہ نے بیٹے کی بازیابی کی اپیل کی ہے۔نصیب اللہ بادینی کو 2014 میں فورسز نے نوشکی سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا جس کے بعد وہ لاپتہ ہے۔

بلوچستان کے ضلع سبی سے تعلق رکھنے والے حاجی مزار خان کے جبری گمشدگی کو گیارہ سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے۔ مزار خان کے لواحقین آج بھی اس کے واپسی کے منتظر ہیں۔

حاجی مزار خان ولد گہرام کو 28 مئی 2010 کو دیگر چار افراد کے ہمراہ پاکستانی فورسز نے حراست بعد لاپتہ کیا۔ مزار خان کے لواحقین کے مطابق سبی کے علاقے جالڑی میں فوجی آپریشن کے دوران پاکستانی فوج نے مزار خان سمیت پانچ افراد شامیر ولد حاجی، فیض محمد ولد جلاب، نذر علی ولد گہرام اور یار خان ولد گہرام کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا تھا۔

لواحقین کے مطابق باقی تمام افراد مختلف اوقات میں بازیاب ہوگئے لیکن حاجی مزار تاحال لاپتہ ہیں۔

خیال رہے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے،بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں آئے روز اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کے لئے احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں

Share This Article
Leave a Comment