بلوچوں کیلئے کلچر ڈے جیسے تہوار کوئی اہمیت نہیں رکھتے،حانی بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

تین ماہ پاکستان فوج کے ٹارچر سیلوں میں اذیت سہنے والی بلوچ خاتون حانی گل نے دو مارچ کے حوالے سے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس وقت بلوچستان میں پاکستانی فوج کی جبر اور بربریت عروج پر ہیں اور اس وقت بلوچوں کے لئے کلچر ڈے جیسے تہوار کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہا اس وقت پاکستانی فوج نے ہمارے ہزاروں بھائیوں،عزیزوں اور قریبی رشتہ داروں کو اغواءکرکے لاپتہ کر رہا ہے ۔اس وقت بلوچستان میں ایک ایسا گھر نہیں ہے جہاں کوئی شخص لاپتہ نہیں کیا گیا ہے،ہماری مائیں اور بہنیں کوئٹہ اور کراچی جیسے شہروں میں اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج ہیں۔ اس طرح کے ناچ گانے اور کلچر ڈے منانے سے بہتر ہیں کہ اپنے لوگوں سے اظہار یکجہتی کرکے ان کے ہمراہ ہوجائیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچوں کی نسل کشی کی جارہی ہے بلوچوں کے نسل کو ختم کیا جارہا ہے بلوچوں کواغواءکرکے ٹارچر سیلوں کی زینت بنائی جارہی ہے یا انہیں مار رہے ہیں اور ہم کلچر ڈے جیسے دن منانے ہیں جب بلوچ ہی نہیں رہیں گے بلوچی زبان نہیں رہے گا اس طرح کے کلچر ڈے چی معنی دارد؟ ہم دو مارچ کو کلچر ڈے بناکر لوگوں کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟

حانی بلوچ نے مزید کہا اگرکسی کو بلوچ اور بلوچیت سے پیار تھا اور ہے تو ان کو اس وقت پیارا ہوتا جب زرینہ مری کو انکے کمسن بچے کے ساتھ اغواءکیا گیا تھا اور سیما بلوچ اپنے بھائی کے لئے کوئٹہ اور کراچی میں سراپااحتجاج تھا ا±س وقت بلوچیت کہاں تھا جب میں تین مہینوں تک ٹارچر سیلوں میں تھا اس وقت بلوچیت کہاں تھا کیا بلوچیت صرف سال میں ایک بار زندہ ہوتا ہے۔؟

تب لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے احتجاج اور مظاہرے ہوتے ہیں اس وقت بلوچیت کیا نہیں اٹھ سکتا اس وقت کیا بلوچیت ختم ہوتا ہے اور صرف دو مارچ کو بلوچیت زندہ ہوتا ہے دو مارچ بلوچیت کو زندہ رکھنے کے لئے نہیں ہوتا بلکہ دکھاو¿ کے لئے ہوتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment