وادی مشکے اور تمپ میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے وادی مشکے میں فوجی موٹر سائیکلوں اور تمپ میں اسنائپر حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

میجر گہرام بلوچ نے کہا ہے کہ گزشتہ رات مشکے میں فوجی کیمپ پر سرمچاروں کے کامیاب حملوں کے بعد کل پاکستانی فوج نے مشکے میں سرمچاروں کی تعاقب میں کوہ اسپیت کی جانب پیش قدمی کی۔ فوجی قافلے میں فرنٹ لائن پر دو موٹر سائیکل اور گاڑیاں شامل تھیں۔ یہ پیش قدمی اس وقت پسپا ہوئی جب دونوں موٹرسائیکل کوہ اسپیت ندی میں پہلے سے بچھائے ہوئے بارودی سرنگ کی زد میں آئے جس سے دو موٹرسائیکل سوار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ کچھ دیر بعد ایک جنگی ہیلی کاپٹر لاشیں اْٹھانے کیلئے یہاں پہنچ گیا۔

میجر گہرام بلوچ نے مزید کہا کہ اس حملے کے دو گھنٹے بعد سرمچاروں نے وادی مشکے کے علاقے بنڈکی میں فوجی قافلے کے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں بعض لیویز اہلکار جانبحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ ہمارا ہدف لیویز اہلکار نہیں تھے مگر فوجی گاڑیوں اور وردی میں ہونے کے باعث وہ جانبحق اور زخمی ہوئے جس کا ہمیں افسوس ہے۔
میجر گہرام بلوچ نے کہا ہے کہ لیویز کو مارنا ہمارے اہداف میں شامل نہیں ہے مگر کچھ عرصہ سے بلوچ قومی تحریک آزادی سے منحرف سرنڈر کردہ بیشتر افراد کو لیویز میں شامل کیا گیا ہے جو قابض پاکستانی فوج کی تشکیل دی ہوئی مقامی ڈیتھ اسکواڈز کا حصہ بن کر بلوچ سرمچاروں کے خلاف پاکستانی فوج کے لیے اول دستے کا کام کر رہے ہیں۔ ہم لیویز فورس کو تنبیہہ کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج کے لیے فرنٹ لائن فورس کا کرادار ادا کرنے سے باز آئیں،۔

میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ اب تواتر کے ساتھ عوامی شکایات آرہے ہیں کہ واددی مشکے کے علاقوں نوکجو، سْنیڑی اور گجر کے علاوہ آواران کے علاقوں مالار اور گیشکور میں لیویز اہلکار لوگوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں اور پاکستانی فوج کی پشت پناہی میں عوام کو تنگ کرنے اور سرمچاروں کے خلاف آپریشن میں پیش پیش ہیں۔ وہ پاکستانی فوج کا ساتھ دینے سے باز آئیں،بصورت دیگر ایسے عناصر کو کسی صورت بھی نہیں بخشا جائے گا۔ بلوچ قومی جہد کے خلاف کام کرنے والوں کو قابض فوج جیسی سزا دی جائے گا۔
میجر گہرام نے مزید کہا کہ مشکے لیویز اہلکار قابض فوج کی ہمراہ داری نہ کریں۔ اگر وہ اسی طرح فوجی قافلوں کا حصہ بنتے رہے تو وہ فوج ہی کی طرح نشانہ بنتے رہیں گے۔ لیویز اور قابض فوج دو الگ ادارے ہیں، اگر وہ فوج کے ساتھ کام کرنے پر رضامند ہوتے ہیں یا انہیں ان کے آفیسرز کی جانب سے مجبور کیا جاتا ہے تو ہمیں لیویز کے آفیسروں کے ساتھ سختی سے پیش آنا پڑے گا۔

میجر گہرام بلوچ نے ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں اسنائپر حملے کی بھی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ سرمچاروں نے تمپ کے علاقے آسیاباد میں موسی کور میں قائم فوجی چوکی پر اسنائپر سے نشانہ بنا کر ایک فوجی اہلکار کو ہلاک کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قابض فورسز پر حملے مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment