شمال مغربی نائجیریا کے علاقے زمفارا میں ایک سکول ہوسٹل پر مسلح ڈاکوو¿ں کی جانب سے مبینہ طور پر دھاوا بولنے کے بعد سے سینکڑوں طالبات لاپتا ہیں۔ اس علاقے میں ایک ہفتے کے دوران اتنے بڑے پیمانے پر یہ اغوا کا دوسرا واقعہ ہے۔
پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ زمفارا پولیس کمانڈ نے فوج کے ساتھ مل کر گورنمنٹ سائنس سیکنڈری سکول کی 317 طالبات کی تلاش کے لیے مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا ہے۔
نائجیریا کے شمال مغرب میں حالیہ برسوں میں بھاری اسلحے سے لیس جرائم پیشہ گروپ، تواتر سے ایسی وارداتیں کر رہے ہیں۔ ان وارداتوں کا مقصد اغوا برائے تاوان، لوٹ مار اور جنسی زیادتی ہوتا ہے۔
خبر رساں ادارے فرانس 24 کے مطابق، نام نہ بتانے کی شرط پر بعض حکام کا کہنا ہے کہ اغوا برائے تاوان کی ایسی وارداتوں میں اضافے کی ایک وجہ، ماضی میں بچوں کی بازیابی کیلئے حکومت کی جانب سے تاوان کی مد میں بڑی رقوم دینے سے ہوا ہے۔ حکومت تاوان دینے کے الزامات سے انکار کرتی ہے۔
زمفارا کے انفارمیشن کمیشنر سلیمان تنا±و¿ انکَا، نے بتایا کہ مسلح افراد رات گئے واردات کے دوران علاقے میں فائرنگ کرتے ہوئے آئے۔ ان کے بقول جو معلومات انہیں ملی ہیں، اِن کے مطابق ڈاکو گاڑیوں میں آئے اور ان میں طالبات کو بٹھا کر لے گئے۔ بقول ان کے ڈاکو کچھ طالبات کو پیدل بھی لے کر گئے ہیں۔
اس سے پہلے سکولوں پر ایسی وارداتیں اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام اور داعش کا مغربی افریقہ کا گروپ کرتا تھا۔ مگر اب یہ طریقہ کار نائجیریا کے شمال مغرب میں مسلح گروہوں نے اپنا لیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے طالبات کے والدین میں سے ایک نے بتایا کہ انہیں اس واقعہ کی اطلاع فون پر ملی۔
سعدی کوانے کے مطابق ”میں جنابے کی طرف جا رہا تھا کہ مجھے کال ملی کہ ڈاکوو¿ں نے سکول پر حملہ کر دیا ہے اور طالبات کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ میری دو بیٹیاں اس سکول میں پڑھتی ہیں۔“
گزشتہ ہفتے نائجیر کی شمال وسطی ریاست میں ایک حملے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک بورڈنگ سکول پر حملے میں ایک طالب علم کو قتل کر دیا اور 27 طلبا کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ بچے ابھی تک بازیاب نہیں ہو سکے۔
پچھلے برس دسمبر میں نائجیریا کے صدر محمد بوہاری کی آبائی ریاست کاٹسینا کے دورے کے دوران علاقے کنکارا میں ایک سکول کے 3 سو طلبا کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
یہ لڑکے بعد میں مذاکرات کے ذریعے بازیاب کروا لیے گئے تھے لیکن اس واقعے پر عالمی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔