ایرانی بارڈر فورس کے مغوی اہلکاروں کی رہائی کے بدلے جیش العدل کے 4قیدی رہا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایران میں حکومت کے خلاف متحرک مسلح تنظیم جیش العدل نے تقریباً ڈھائی سالوں بعد دو مغوی ایرانی اہلکاروں کو اپنے چار ساتھی قیدیوں کی رہائی کے بدلے چھوڑ دیاہے۔

ذرائع کے مطابق ایرانی حکومت اور جیش العدل کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد قیدیوں کا تبادلہ منگل دو فروری کو پاکستان اور ایران کی سرحد پر بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل کے قریب ہوا۔

ایران کی سب سے طاقتور فورس پاسداران انقلاب کے آفیسران نے ایران کی زاہدان اور اردبیل جیل میں قید چار قیدیوں ابوبکر رستمی، عبدالرحمان سنگانی، شیر احمد شیرانی اور محمد صابر ملک رئیسی کو سرحد پر جیش العدل کے ارکان کے حوالے کیا۔

بدلے میں جیش العدل نے ایرانی بارڈر فورس کے دو مغوی اہلکاروں عباس عابدی اور مجید ناروئی کو پاسداران انقلاب کے حوالے کیا۔

تاہم بدھ کو پاسداران انقلاب القدس فورس (آئی آر جی سی )کی جانب سے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ سیستان و بلوچستان میں ایک انٹیلی جنس آپریشن کے دوران دومغوی اہلکاروں کو بازیاب کرایا گیاجنہیں دس دیگر ساتھیوں کے ساتھ اکتوبر2018ءمیں اغوا کیا گیا تھا۔

دوسری جانب جیش العدل کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں بتایا گیا کہ انہوں نے ایران کی جیلوں میں سیاسی بنیادوں پر قید کئے گئے اپنے چار ساتھیوں کی رہائی کے بدلے ایرانی فورسز کے دو اہلکاروں کو رہا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ابوبکر رستمی، عبدالرحمان سنگانی، شیر احمد شیرانی اور محمد صابر کا تعلق ایران کے کردستان، سیستان و بلوچستان اور خراسان کے علاقوں سے تھا جنہیں گزشتہ دس سالوں کے دوران مختلف مقامات سے حکومت مخالف کارروائیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور جیلوں میں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

یاد رہے کہ بلوچستان سے ملحقہ ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان میں ایرانی بارڈر فورس کے گیارہ اہلکاروں اور بسیج فورس کے ایک اہلکار (مجموعی طور پر بارہ اہلکاروں) کو اکتوبر2018ءمیں میرجاوا کے مقام پر واقع چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد نے حملہ کرکے اغواءکرلیا تھا۔

بارڈر فورس کے گیارہ میں سے نو اہلکار پہلے ہی دو مرحلوں میں نومبر2018اورمارچ2019ءمیں بازیاب ہوئے۔ نومبر2018 میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ کہ پانچ مغوی اہلکار وں کی بازیابی پاکستانی قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی کوششوں کے نتیجے میںہوئی۔

انہوں نے تب بتایا تھا کہ باقی مغوی اہلکاروں کی بازیابی کیلئے بھی عسکری قیادت کی نگرانی میں ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جیش العدل اور ایرانی کی حکومت کے درمیان گزشتہ دو سالوں سے باقی رہ جانے والے قیدیوں کی رہائی کیلئے مذاکرات چل رہے تھے۔

Share This Article
Leave a Comment