افغانستان کی وزارتِ اعلیٰ تعلیم نے صوبہ کنڑ میں سید جمال الدین افغان یونیورسٹی پر مبینہ طور پر پاکستان کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
وزارت کے مطابق اس حملے میں تقریباً 30 طلبہ اور اساتذہ ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ یونیورسٹی کی عمارتوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔
اس سے قبل کنڑ میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ نجیب اللہ حنیف نے دعویٰ کیا تھا کہ پیر کے روز پاکستانی فوج کے میزائل حملوں میں تین افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔
پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان درستگی اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتا ہے اور سید جمال الدین یونیورسٹی پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع سے بھی پاکستان اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
سنگر نیوز اپنے ذرائع سے یہ رپورٹ کرچکا ہے کہ بلوچستان کے چمن سرحد پر جھڑپوں میں 11 پاکستانی اہلکار ہلاک، 4 زخمی ہوگئے جبکہ افغان فورسز نے پاکستانی فورسز کی ایک زخمی اور ایک ہلاک اہلکار کی لاش تحویل میں لے لی لیکن اس کی حکومتی سطح پر باقاعدہ تصدیق نہیں ہوسکی ۔
سرکاری حکام کے مطابق چمن کے قریب روغانی کے علاقے میں پیر کی صبح جھڑپوں کا آغاز ہوا جو وقفے وقفے سے دوپہر تک جاری رہا۔
سویلین حکام نے جھڑپوں کی تصدیق تو کی ہے، تاہم تاحال اس کی وجوہات یا کسی جانی نقصان کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ چمن کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اویس کے مطابق اب تک کوئی زخمی ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔
اسی طرح قبائلی ضلع باجوڑ میں بھی سرحدی علاقوں سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق گولے آبادی کے قریب گرے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
لغڑئی، چارمنگ اور سلارزئی کے علاقوں میں بھی گولہ باری کی آوازیں سنی گئیں۔ لغڑی سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آبادی کے درمیان سڑک سے دھواں اٹھ رہا ہے اور لوگ خوف و ہراس میں بھاگ رہے ہیں۔
کنڑ یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ وہ کلاس میں موجود تھے جب اچانک زور دار دھماکے کی آواز آئی۔
ایک اور عینی شاہد اکرام اللہ کے مطابق دھماکے کے بعد ہر طرف دھواں، گرد اور بارود کی بو پھیل گئی تھی اور لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے کے قابل نہیں تھے۔ ان کے مطابق فیکلٹی آف ایجوکیشن کی عمارت کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔
واقعے کے بعد اسد آباد شہر میں ایمبولینسوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
افغان حکومت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے، تاہم پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔