انسانی حقوق کی سرگرم کارکن حوران بلوچ نے بلوچ لائیوز میٹر ( بی ایل ایم ) کے زیر اہتمام گذشتہ روزاتوار کی شام کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والی انسانیت سوز واقعات اب مزید شدت اختیار کرچکے ہیں، آئے روز بلوچ فرزندوں کو اغواءکرنا اور انہیں سالوں تک ٹارچر کرنے کے بعد چند ایک کی ذہنی توازن بگھاڑ کر رہا کردیا جاتا ہے جبکہ کئیوں کو غیر انسانی تشدد سے گزارنے کے بعد مار کر بغیر کفن کے درگور کیا جاتا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی سینکڑوں فوجی آپریشنز میں اب تک ہزاروں کی تعداد میں بلوچ لاپتہ اور شہید ہوچکے ہیں، سینکڑوں غریبوں کے گھر جلا کر انہیں بے گھر کر کے ان کی اپنی ذمینوں سے نکل مکانی پر مجبور کردیا گیا ہے۔ اب المیہ یہ ہے کہ بلوچ قوم کو دی جانے والی اس اجتماعی سزا میں شاید کوئی کسر باقی رہ گیا تھا جسے پورا کرنے کے کیلئے سکیورٹی فورسز نے اب بے گناہ خواتین اور کمسن بچوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔
حوارن بلوچ نے کہا کہ گزشتہ ماہ کے آخر اور رواں ماہ کے تین تاریخ کو بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے گچک سے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مختلف چھاپوں اور آپریشنز کے دوران اب تک دو خواتین اور دو بچوں سمیت 9 افراد حراست کے بعد لاپتہ ہوچکے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے 30 نومبر کو گچک کے علاقے سے وہاں کے رہائشی محمد کریم ولد یار محمد اور ان کی اہلیہ بی بی شاہ پری کو ان کے گھر سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، جبکہ ان کے علاوہ سلیم ولد محمد جمعہ، واحد ولد قادر بخش، نزیر ولد امیت اور یار جان ولد دلمراد کو بھی حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ گچک سے عمر رسیدہ خاتون بی بی مریم زوجہ در محمد کو ان کے دو کمسن نواسوں راشد ولد عواض اور اجمل ولد شاہجان جو کہ طالب علم ہیں، کے ہمراہ گچک ٹوبہ کے مقام پر اس وقت حراست میں لیکر لاپتہ کردیا گیا جب یہ لوگ کسی مقامی لوکل گاڑی میں پنجگور سے گچک آرہے تھے۔ بے گناہ خواتین کو جبرا لاپتہ کرنا بلوچ قومی غیرت اور روایات کی پامالی کے ساتھ ساتھ عالمی اور انسانی اور جنگی قوانین کی اعلانیہ خلاف ورزی ہے مگر اس ظلم پر عالمی اداروں کی خاموشی حیران کن ہے۔
حوران بلوچ نے صحافیون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے علمبردار بلوچستان میں نہتے خواتین اور کمسن بچوں کی ماورائے عدالت گمشدگیوں پر خاموش تماشائی بنے ہیں جو کہ ان کی بلوچستان کے ساتھ ناروا رویئے کی غمازی کرتا ہے۔ سیکورٹی فورسز اور وزراءایک طرف کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے اور دوسری طرف سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہمارے خواتین کو لاپتہ کرکے پہلے سے لگائے گئے زخموں پر نمک چھڑکنے میں مصروف ہیں۔ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی زیادتیوں کا کوئی حد، پیمانہ یا تمیز باقی نہیں رہا ہے، کبھی کسی خواتین کا دوپٹہ اچھالا جاتا ہے تو کبھی کسی کمسن بچے کے خوابوں کو خوف میں تبدیل کیا جاتا ہے اور کبھی کبھار پروفیسر لیاقت سنی جیسے استادوں کو اغواءکر کے بلوچستان میں علم کی روشنی کو زخمی کیا جاتا ہے۔
انہون نے کہا کہ مزکورہ خواتین کی گمشدگی بلوچستان میں کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے بلکہ بلوچ کی ماں اور بیٹی پر ظلم و ذیادتی کے اس لہولہان داستان کو بولان، کوہلو و ڈیرہ بگٹی کے خیموں سے لپیٹ کر، مکران کے مایوس ساحلوں پر وار کرنے کے بعد آواران کی چادر و چاردیواری کی تقدس کو روند کر گچک تک لائی گئی ہے اور آج بلوچستان کا ہر گھر اس خوف میں مبتلا ہے کہ اگلا نمبر کس کا ہے۔ یہاں تک کہ سکیورٹی فورسز کی ظلم و بربریت نے بلوچ قوم کی اجتماعی نفسیات کو متاثر کردیا ہے۔ رات کو جب کسی دروازے پر دستک ہوتی ہے تو ہر عام و خاص کے دل میں اٹھنے والا پہلا خوف فوجی آپریشن کا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس پریس کانفرنس کی توسط سے ملکی اور عالمی تمام متعلقہ اداروں سے گزارش کرتے ہیں کہ بلوچ خواتین اور بچوں کی جبری گمشدگی کے سلسلے کو روکنے کیلئے کردار ادا کریں، اور بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے گچک سے لاپتہ ہونے والی خواتین اور بچوں کو جلد از جلد بازیاب کیا جائے۔
مزید برآں انہوں نے آخر میں بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کو باڑ لگانے کے ظالمانہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکام کی جانب سے لئے گئے معاشی قتل عام پر مبنی اس فیصلے نے بلوچستان کی عوام کو صدمے سے دو چار کیا ہوا ہے، بلوچ قوم اپنے ساحل و وسائل کی حفاظت کی خاطر ایسے ہتھکنڈوں کو کسی صورت تسلیم نہیں کریگا۔ لہذا ہم وفاقی اور صوبائی تمام متعلقہ اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ اس فیصلے کو فی الفور واپس لیا جائے۔