پاکستان میں جمہوریت ہوتی تو پھر جنرلز ہم پر حکمرانی نہ کرتے، اختر مینگل

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن جلسوں کو حکمران جلسیوں کا نام دیتے تھے میں بھی ان کو جلسے نہیں کہتا، ان کو میں ان غیر جمہوری قوتوں کا، آمروں کی پیداواروں کو، ان قوتوں نے آئین کو گھر کی لونڈی سمجھا ہوا ہے، جنھوں نے 70 سال سے زائد زنجیروں کے زور پر حکمرانی کی ہے، میں ان جلسوں کو ان کی جنازہ نماز سمجھتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میرے الفاظ کو نہ گلہ سمجھیں اور نہ شکوہ سمجھیں۔ ان کے مطابق جو 70 برس سے بلوچستان کے لوگوں نے سہا ہے میں ان کے بارے میں آپ سے بات کرونگا۔ ان کے مطابق اس عرصے میں ہم نے بہت کچھ کھویا اور ایک دن بھی سکون کا نہیں دیکھا۔

اختر مینگل نے کہا کہ یہ شورش کس نے شروع کر رکھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’آج جس خلائی مخلوق کے خلاف آپ اس پنڈال میں کھڑے ہیں، ہم 70 سالوں سے ان کی دہشت کا اور ان کی وہشت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘

ان کے ان غیر اخلاقی فیصلوں کا ذمہ دار کون ہے؟

70 سالوں سے جو ظلم و زیادتی ہو رہی ہے۔ اس کا ذمہ دار ان کو نہیں بلکہ اس بڑے صوبے کو قرار دیا ہے جو آج اس پنڈال میں موجود ہے۔ انھوں نے کہا اس جن کو قابو کرنا اب آپ کی ذمہ داری بنتی ہے۔

انھوں نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ملک کو بچانا چاہتے ہیں تو پھر اس خلائی مخلوق کو دھکہ دیں اور اس کی حیثیت دکھا دیں۔ انھیں یہ ثابت کرائیں کہ یہ ملک اس ملک کی عوام کے لیے بنا ہے۔

اختر مینگل نے کہا کہ اگر آپ اس ملک کو دوسرا بنگلہ دیش نہیں بنانا چاہتے تو پھر اس خلائی مخلوق کو لگام دینا آپ کی ذمہ داری بنتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج ہماری ماو¿ں بہنوں کی عزتوں محفوظ نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ہم آج بھی جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہیں اور اس آئین کے تحفظ کے لیے نکلے ہیں، لیکن ہماری عزتیں بچانے کے لیے کوئی نہیں نکلا۔ ہماری مائیں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں مگر ان کے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔

اختر مینگل نے کہا کہ مریم نواز خود بتائیں گی کہ کس طرح بچیوں اور بہنوں نے بلوچستان میں رو رو کر اپنے پیاروں کی بازیابی کی درخواست کی۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی یہ ایک اسلامی ریاست ہے۔ کیا یہ ایک جمہوری ملک ہے؟ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ اختر مینگل نے لاہور جلسے کے شرکا سے کہا کہ آپ کو انگریزوں کی غلامی سے نکال کر ان وردی والوں کی غلامی میں دھکیل دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوئی ایک ملک ایسا بتائیں جہاں وزیر اعظم کو پھانسی کے گھاٹ اتار دیا گیا ہو، جہاں بڑے عوامی مینڈیٹ والے وزیر اعظم کو ملک سے باہر نکال دیا گیا ہو۔

اگر جمہوریت ہوتی تو پھر جنرلز ہم پر براہ راست ہم پر حکمرانی نہ کرتے۔ اور تو اور کاروبار بھی اپنے ہاتھ میں رکھ لیا ہے۔ ڈی ایچ اے بنے ہوئے ہیں، فوجی فاو¿نڈیشن بنی ہوئی ہے، ایف ڈبلیو بنا ہوا ہے۔

انہوںنے کہا کہ جس طرح ڈی ایچ اے پھیل رہا ہے مجھے ڈر ہے کہ آئندہ کچھ سالوں میں یہاں لاہور میں قبرستان کی بھی جگہ نہیں بچے گی۔

اختر مینگل نے کہا کہ جو آسٹریلیا میں جزیرے خریدتے ہیں، جو دبئی میں بیٹھے ہیں اور جو اپنے آپ کو شیر کہتے تھے اور اپنے شہروں کو ڈالروں کے عوض بیچا اور جو پیزے بیچتے ہیں ان کا بھی احتساب ہونا چائیے۔

انھوں نے کہا کہ جس طرح ڈی ایچ اے نے لوگوں کی زمینیں ہڑپ کی ہیں ان کا بھی احتساب ہونا چائیے۔

اختر مینگل نے کہا کہ گوادر کو باڑیں لگا کر وہاں کے لوگوں کو ایسٹ اور ویسٹ جرمنی کی طرز پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment