ایران کے جوہری سائنسدان محسن فخری زادے ایک حملے میں ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایران کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے سب سے سینیئر جوہری سائنسدان محسن فخری زادے دارالحکومت تہران کے قریب ہونے والے ایک حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

فخرا زادے ابسارڈ میں ہونے والے حملے کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے بم چلایا اور اس کے بعد فخری زادے کی کار پر فائرنگ شروع کی۔

مغربی انٹیلیجنس ایجنسیاں فخری زادے کو ایران کے خفیہ جوہری اسلحے کے پروگرام کا ماسٹر مائنڈ کہتی رہی ہیں۔

کئی ممالک کے سفارتکار انھیں ’ایران کے بم کا باپ‘ بھی کہتے تھے۔

ان کی موت کی خبر ایک ایسے وقت پر آئی ہے جب یہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایران زیادہ مقدار میں یورینیئم افڑودہ کر رہا ہے۔ یورینیئم کی افڑودگی سول نیوکلیئر پاور جنریشن اور ملٹری جوہری اسلحے کے لیے اہم جز ہے۔

ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران کی وزارتِ دفاع نے جمعے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘مسلح دہشت گردوں نے وزارت کے ریسرچ اینڈ انوویشن آرگنائزیشن کے سربراہ محسن فخری زادے کو لے کر جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ دہشت گردوں اور ان کے محافظوں کے درمیان جھڑپ کے دوران فخری زادے شدید زخمی ہو گئے اور انھیں ہسپتال لے جایا گیا۔

’بدقسمتی سے طبی ٹیم کی ان کو بچانے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور چند منٹوں پہلے وہ ہلاک ہو گئے۔‘

فارس نیوز ایجنسی نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ابسارڈ کے شہر میں مصطفیٰ خمینی بلیوارڈ پر کار دھماکہ ہوا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عینی شاہدین کے مطابق ’تین سے چار افراد، جن کو دہشت گرد کہا گیا تھا، واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ فارس نیوز نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’دہشت گردوں نے ایک نامور ایرانی سائنسدان کو ہلاک کر دیا ہے۔‘

پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے کہا ہے کہ وہ ایرانی سائنسدان کے قتل کا بدلہ لیں گے جیسے ماضی میں لیتے رہے ہیں۔

’اس بزدلانہ (کارروائی) سے، جس میں اسرائیل کے کردار کے اشارے ہیں، یہ نظر آتا ہے کہ اس کے مرتکب جنگ کے لیے کتنے بیتاب ہیں۔‘

سنہ 2010 سے 2012 کے درمیان چار ایرانی سائنسدانوں کو قتل گیا تھا اور ایران ان کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا الزام لگاتا رہا ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے مئی 2018 میں ایران کے جوہری پروگرام کے متعلق بتاتے ہوئے فخری زادے کا نام کا خصوصی طور پر لیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment