متحدہ عرب امارات اور عمان پر ایرانی ڈرون حملوں کا دعویٰ،تیل ذخائر پر آتشزدگی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

متحدہ عرب امارات حکام کا کہنا ہے کہ فجیرہ پیٹرولیم انڈسٹریز زون پر ہونے والے ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں تین انڈین شہری زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تینوں افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں اور انھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ڈرون حملے کے نتیجے میں ملک میں تیل کی برآمدات کے لیے استعمال ہونے والی فجیرہ بندرگاہ پر آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

فجیرہ امارات کی سب سے بڑی بندرگاہ اور تیل ذخیرہ کرنے کی اہم ترین تنصیب ہے۔ جنگ بندی سے قبل بھی اس مقام کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں فجیرہ گورنمنٹ میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ سول ڈیفنس کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے تین میزائل فضا میں ہی مار گرائے ہیں جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں گرا ہے۔

دوسری جانب عمان کا کہنا ہے کہ ولایتِ بخا کے ایک قصبے میں واقع رہائشی عمارت پر حملے کے نتیجے میں دو غیر ملکی زخمی ہو گئے ہیں۔

عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ ولایتِ بخا کے علاقے طیبات میں جس رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، وہاں ایک کمپنی کے ملازمین رہائش پذیر تھے۔

خبر کے مطابق اس حملے میں دو غیر ملکی ملازمین معمولی زخمی ہوئے، جبکہ چار گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ حملے کے نتیجے میں قریب ہی واقع ایک گھر کی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

متعلقہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ہونے والی ’ایرانی جارحیت کی نئی لہر‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’خطرناک اشتعال انگیزی‘ قرار دیا ہے۔

یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال کو ’ایرانی جارحیت کی تجدید‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ایک خطرناک اور ناقابلِ قبول اضافہ ہے۔

وزارت نے زور دیا کہ یہ پیش رفت متحدہ عرب امارات کے امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، اور اس بات پر بھی زور دیا کہ یو اے ای اپنی خودمختاری اور سلامتی کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کو آج ہونے والے نئے حملوں کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ حملے خطرناک اشتعال انگیزی اور ناقابلِ قبول حد سے تجاوز ہیں‘، اور یہ کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔

یو اے ای نے مزید کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ان حملوں کے جواب میں کارروائی کا اپنا مکمل اور جائز حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک نامعلوم ’سینیئر فوجی اہلکار‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ایران کا متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘

ایران کی جانب سے اس بیان کے بعد تاحال کسی سرکاری اہلکار نے مزید ردِعمل نہیں دیا۔

Share This Article