کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا،2 امریکی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے، سینٹکام

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایرانی میڈیا کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس کے ایک جنگی جہاز کو دو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایکس پر جاری ایک بیان میں سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا‘۔

سینٹکام کا مزید کہنا ہے کہ امریکی افواج پراجیکٹ فریڈم کی حمایت کر رہی ہیں اور ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کو نافذ کر رہی ہیں۔

اس قبل امریکی نشریاتی ادارت ایگزیوز کے ایک رپورٹر نے ایک سینیئر امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو میزائل سے نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ کی جانب سے ’سخت اور بروقت انداز میں خبردار کیے جانے کے بعد امریکی اور صیہونی دشمن ڈسٹرائرز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔‘

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک جہاز پر دو میزائل داغے گئے تھے۔

امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز ’کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔‘

سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں ان جہازوں کے نام فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بعد خلیج میں کام کر رہے ہیں۔

سینٹکام کا مزید کہنا ہے کہ امریکی افواج تجارتی جہاز رانی کا راستہ بحال کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔

Share This Article