پاکستان کی بھارت کے خلاف پروپیگنڈے ایک نا کام کوشش ہے۔بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نئی دہلی پر اپنے خلاف شدت پسندی کو فروغ دینے کے جو الزامات عائد کیے ہیں وہ پوری طرح سے بے بنیاد ہیں۔ اتوار کی شام کو نئی دہلی میں وزات خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستوا نے پاکستانی موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ”بین الاقوامی برادری دہشت گردی سے متعلق اسلام آباد کے کردار سے واقف ہے اس لیے بہت کم لوگ ان الزامات پر یقین کریں گے۔”
اس سے قبل سنیچر کو پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں بھارت کی دخل اندازی اور دہشت گردی میں مبینہ معاونت کی تفصیلات جاری کی تھیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ملک کے اندرونی معاملات میں بھارتی مداخلت اور اس کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کو ہوا دینے سے متعلق ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔
اس کے رد عمل میں بھارت نے کہا کہ پاکستان نے اس سلسلے میں جو بھی دعوے کیے ہیں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ سری واستوا کا کہنا تھا کہ یہ، ”نام نہاد ثبوت من گھڑت اور تخیل پر مبنی ہیں۔ چونکہ عالمی برادری پاکستانی حربوں سے واقف ہے اور خود پاکستانی قیادت بھی شدت پسندی کی پذیرائی کی بات تسلیم کر چکی ہے اس لیے اس طرح کی مایوس کن کوششوں پر بہت کم ہی لوگ یقین کریں گے۔”
واضح رہے کہ الزامات میں جن وائس ریکارڈنگ کو سنایا گیا وہ نہ صرف من گھٹ ہیں،بلکہ اس میں ایک ڈمی وائس کو بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے وائس کے طور پر پیش کیا گیا۔جبکہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی ویڈیو اور آڈیو کی سینکڑوں وائس سوشل میڈیا میں موجود ہیں، اور دنیا بھر کے صحافی انکی آواز پہچانتے ہیں،تجزیہ نگار بتاتے ہیں کہ ایسے ہتھکنڈے دراصل پاکستانی کی موجودہ داخلی صورت حال میں فوج کے اوپر لگے چارجز کی جانب توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر شدت پسندی کا چہرہ اسامہ بن لادن بھی پاکستان ہی میں پائے گئے تھے اور وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمان میں جن کی شہید کہہ کر تعریف کی تھی۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف اس طرح کی باتیں اس لیے کر رہا ہے تاکہ انتشار کی شکار اپنی اندرونی سیاست سے لوگوں کی توجہ ہٹا سکے۔
اس موقع پر بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستان پر امن و سکون کے لیے 2003 میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ پاکستان اب بھی شدت پسندوں کی دراندازی کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے لیے ایل او سی پر تعینات اس کے فوجی مدد کر رہے ہیں۔
افغان حکومت نے بھی پاکستان کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں اتوار کو ہی افغان حکومت نے اپنا ایک بیان جاری کر کے کہا، ”دہشتگردی سے بری طرح متاثر ہونے والے ایک ملک کی حیثیت سے ہم بلا تفریق دنیا بھر میں ہر جگہ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے پر عزم ہیں اور ہم کبھی بھی دوسرے ملک کے خلاف تباہ کن سرگرمیوں کے لیے اپنے ملک کی سرزمین کا استعمال قطعی نہیں ہونے دیں گے۔”
جبکہ آزادی پسند بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے پاکستانی الزامات کو ایک پروپکینڈہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحیثیت قوم ہمیں کسی بھی ملک سے مدد لینے کا حق حاصل ہے، اور اگر ہمیں مدد حاصل ہوتی تو آج صورت حال کچھ اور ہوتا۔