پاکستان کی اندرونی کمزوری اور عالمی تبدیلیاں بلوچ تحریک کے حق میں جا رہی ہیں، اختر ندیم بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے مرکزی رہنما اور دو دہائیوں سے مسلح محاذ پر سرگرم اختر ندیم بلوچ نے اسپر میگزین کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں تنظیم کی جدوجہد، حکمتِ عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔

انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بیس سالہ مسلح جدوجہد نے انہیں ذاتی خواہشات سے نکال کر ایک وسیع تر قومی شعور سے جوڑا ہے، اور بلوچ عوام کا اعتماد اس تحریک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

اختر ندیم بلوچ کے مطابق بی ایل ایف کی بنیاد اجتماعی قیادت اور اجتماعی دانش پر رکھی گئی، جس نے اسے دیگر مزاحمتی تحریکوں سے مختلف اور زیادہ منظم بنایا۔

انہوں نے کہا کہ قیادت کی شہادتوں اور گرفتاریوں کے باوجود تنظیم نے اپنی ہم آہنگی برقرار رکھی اور تحریک کو فکری و عسکری دونوں سطحوں پر مضبوط کیا۔

چینی منصوبوں کے ساتھ ساتھ مغربی کمپنیوں کو نشانہ بنانے سے متعلق سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ بلوچ قوم کا کسی ملک سے کوئی تنازعہ نہیں، مسئلہ صرف پاکستان کے ساتھ ہے۔ ان کے مطابق ہر وہ کمپنی یا طاقت جو پاکستان کے ساتھ بلوچ وسائل پر قبضے کے لیے معاہدہ کرے، بی ایل ایف اسے دشمن تصور کرے گی۔

انہوں نے "سدو آپریشنل بٹالین” کے قیام کو جنگی حکمتِ عملی میں ضروری پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یونٹ دشمن کے مضبوط مورچوں کو توڑنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی ایل ایف ہر اس معاہدے کی مزاحمت کرے گی جو بلوچ عوام کی مرضی کے خلاف ہو۔

پاکستان کی عسکری قوت کے مقابلے میں بی ایل ایف کی حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ کا انحصار جدید ہتھیاروں پر نہیں بلکہ مستقل مزاجی، صبر اور عزم پر ہے۔ انہوں نے افغان گوریلا جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط ارادے نے بڑی طاقتوں کو شکست دی۔

اختر ندیم بلوچ نے دعویٰ کیا کہ آج بلوچ تحریک کو عوامی حمایت حاصل ہے اور نوجوان سیاسی و جنگی شعور کے ساتھ تحریک میں شامل ہو رہے ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اندرونی کمزوری اور عالمی سطح پر بدلتے حالات تحریک کے لیے سازگار ہیں، تاہم بلوچ قیادت کو اتحاد اور مشترکہ جدوجہد کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔

پڑھیئے مکمل اور تفصیلی انٹریو اس لنک پر : https://dailysangar.online/?p=72230

Share This Article