آزادی کی منزل ہماری اتحاد، طاقت اور شعوری ادارک پر مشتمل ہے، بی ایل ایف رہنما اختر ندیم بلوچ کا خصوصی انٹرویو

ایڈمن
ایڈمن
22 Min Read

اختر ندیم بلوچ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرکردہ مرکزی رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ بی ایل ایف کی فعالیت اور اسے مستحکم کرنے میں اُن کا ایک اہم اور قائدانہ کردار ہے۔ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے بی ایل ایف میں مرکزی کمانڈر کی حیثیت سے بلوچ جنگِ آزادی میں قومی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔
"اسپر” بی ایل ایف کی پبلی کیشن "آشوب” کی جانب سے شائع ہونے والا ایک ماہنامہ میگزین ہے، جس نے اختر ندیم بلوچ کا یہ خصوصی انٹرویو کیا ہے۔
اسپر میگزین نے اس تفصیلی انٹرویو کے ذریعے اختر ندیم بلوچ کے گزشتہ دو دہائیوں پر محیط خیالات، احساسات اور تجربات کو قارئین تک پہنچانے اور قومی جنگ کی موجودہ صورتحال پر ان کا نقطہ نظر حاصل کرنے کی سعی کی ہے۔
ہم نے اپنے قارئین کی معلومات اور دلچسپی کے پیشِ نظر اسے سنگر میں شائع کر رہے ہیں، ادارۂ سنگر

اسپر میگزین:
آپ گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچ قومی آزادی کے مسلح محاذ پر سرگرم ہیں۔ اس طویل اور کٹھن جدوجہد کا مجموعی خلاصہ آپ کن الفاظ میں بیان کریں گے؟

اختر ندیم بلوچ :
بلوچ قومی تحریکِ آزادی کے ایک کارکن کی حیثیت سے اس طویل سفر میں، میں نے سب سے اہم جو سبق سیکھا ہے، وہ کمٹمنٹ، تسلسل اور جستجو کے باہمی رشتے کا ادراک ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں پر محیط اس جدوجہد سے وابستگی نے مجھے انفرادی مقاصد اور ذاتی خواہشات کے دائرے سے نکال کر ایک وسیع تر اجتماعی اور قومی شعور سے جوڑ دیا ہے۔
یہ وابستگی محض ایک نظریاتی تعلق نہیں رہی، بلکہ اس نے ہر لمحہ میری عملی تربیت کی ہے۔ اس جدوجہد نے مجھے سخت ترین حالات میں جینے کا ہنر سکھایا اور مشکلات کا سامنا حوصلے اور استقامت کے ساتھ کرنے کا شعور دیا۔ مہربان ساتھیوں اور قربانی کے جذبے سے سرشار سرمچاروں کی رفاقت میں، میں اس جدوجہد کو کٹھن نہیں سمجھتا بلکہ میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ اس پُرآشوب دور میں اپنی قوم کے لیے فرائض ادا کرنے کا موقع ملا ہے۔

اسپر میگزین :
اس بیس سالہ مسلح سفر کے دوران آپ کن بڑے نشیب و فراز اور سنگ میلوں سے گزرے ہیں، جنہوں نے آپ کی سوچ یا تحریک پر گہرے اثرات مرتب کیے؟



اختر ندیم بلوچ :
دیکھیں، انسان جس ماحول اور معاشرے میں زندگی گزارتا ہے، وہ لازماً اس کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح اس بیس سالہ جدوجہد کے چشم دید گواہ کی حیثیت سے، میں نے اس سفر کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کو قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے۔
اگر مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو اس جدوجہد کا تسلسل ہی ہماری سب سے بڑی طاقت رہا ہے۔ بلوچ قوم کی بےلوث محبت اور اعتماد نے ہمیشہ ہمارے حوصلوں کو جِلا بخشی اور ہمارے عزم کو مزید مضبوط کیا۔ یہ اعتماد ہی وہ سرمایہ ہے جس نے ہمیں ہر مشکل مرحلے میں ثابت قدم رکھا۔ ابتدائی دور میں کچھ ایسے نشیب و فراز بھی آئے جنہوں نے ہمارے سفر میں وقتی خلل ضرور ڈالا۔ مثال کے طور پر 2005 میں ہماری گرفتاری ایک اہم موڑ تھا۔ اس وقت ہمیں میدانِ جدوجہد میں آئے محض دو سال ہی ہوئے تھے کہ ہم اپنے قائد کے ہمراہ گرفتار کر لیے گئے۔ اس مرحلے پر ایک گہری ذہنی اذیت بھی رہی، یہ احساس کہ شاید ہم اپنی قوم کے لیے وہ کردار ادا نہ کر سکے جس کے لیے ہم نے برسوں تیاری کی تھی۔
تاہم وقت نے ہمیں ایک اور موقع دیا۔ ہم نے اپنے قومی حلف کی پاسداری کی اور دوبارہ اس جدوجہد کا حصہ بن گئے۔ اس کے بعد سے آج تک کی محنت کا نتیجہ یہ ہے کہ بلوچ قومی آزادی کا شعور اب صرف چند حلقوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ شہروں سے لے کر دور دراز کے گدانوں اور جھونپڑیوں تک پھیل چکا ہے۔ یہی وہ سنگ میل ہیں جنہوں نے نہ صرف میری سوچ کو مزید پختہ کیا بلکہ تحریک کے مستقبل کے بارے میں میرے یقین کو بھی مضبوط تر بنایا ہے۔


اسپر میگزین :
بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) گزشتہ بیس سالوں سے عسکری محاذ پر صفِ اول میں رہی ہے۔ آپ کی نظر میں اس جنگ میں بی ایل ایف کا تاریخی اور کلیدی کردار کیا ہے؟

اختر ندیم بلوچ :
بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے تاریخی کردار کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ بلوچ قومی آزادی کی مزاحمتی تاریخ کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے۔ دراصل بی ایل ایف اُن مزاحمتی تحریکوں کے تجربات، کمزوریوں اور ناکامیوں کے شعوری اور تحقیقی مطالعے کا نتیجہ ہے، جو 1948 میں بلوچستان پر پاکستانی قبضے کے بعد ابھریں، مگر زیادہ تر قلیل مدت میں یا تو ختم ہو گئیں یا اپنی رفتار کھو بیٹھیں۔
بی ایل ایف کے بانی رہنماؤں نے نہایت تدبر اور دوراندیشی کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ بلوچ جہدِ آزادی کو اس بار ایک ایسا منظم اور پائیدار پلیٹ فارم فراہم کیا جائے، جو شخصی اجارہ داری اور قبائلی ساخت سے بالاتر ہو کر حقیقی معنوں میں ایک اجتماعی قومی نمائندگی کا مظہر ہو۔ اسی وژن کے تحت بی ایل ایف کی تنظیمی ساخت کو اجتماعی دانش(Collective Wisdom) اور اجتماعی قیادت (Collective Leadership) کی بنیاد پر استوار کیا گیا، جو اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
بی ایل ایف نے نہایت مشکل حالات میں بھی اپنی تنظیمی ہم آہنگی اور تسلسل کو برقرار رکھا۔ قیادت کی شہادتوں اور گرفتاریوں جیسے سنگین نقصانات کے باوجود اس نے نہ صرف اپنی جدوجہد کو جاری رکھا بلکہ اسے مزید منظم اور مؤثر بنایا۔ اس کی مضبوط فیصلہ سازی اور جامع پالیسیوں نے بلوچ قومی تحریک کو ایک واضح سمت دی اور عالمی سطح پر بھی بلوچ جہدِ آزادی کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بی ایل ایف نے نہ صرف عسکری محاذ پر اپنی موجودگی کو برقرار رکھا بلکہ ایک فکری اور تنظیمی تسلسل کو بھی قائم رکھا، جو اس تحریک کی بقا اور پیش رفت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ قائدین کی قربانیوں اور نظریے کی مسلسل ترویج نے آزادی کی جدوجہد کو ایک نئی جہت عطا کی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بلوچستان کا بچہ بچہ اس تحریک سے آگاہ ہے اور اس شعور سے بھی بہرہ مند ہے کہ بلوچستان پر ایک جبری قبضہ مسلط کیا گیا ہے۔ اس حقیقت کا ادراک ہی اس عزم کو جنم دیتا ہے کہ اس قبضے کا خاتمہ ہی ہماری جدوجہد کا بنیادی مقصد اور حتمی منزل ہے۔

اسپر میگزین :
آپ کے خیال میں گزشتہ بیس سالوں میں بی ایل ایف نے ایسی کون سی کامیابیاں حاصل کی ہیں جنہیں آپ تحریک کے لیے "مفید” تصور کرتے ہیں؟

اختر ندیم بلوچ :
اس عہد کے سب سے بڑی کامیابی یاکہ قربانیوں اور جدوجہد کا حاصل میرے خیال میں بلوچ قوم کا اعتماد حاصل کرنا اور اس جدوجہد کے حقائق سے انہیں آگاہ کرنا بلوچ جہد کاروں کی کامیابی ہے، کیونکہ بلوچ سماج ایک پیچدہ قبائلی او نیم قبائلی معاشرہ ہے۔ ان پیچیدگیوں کی تحقیق کرکے پالیسی مرتب کرنا اور اور اُن سب کو باور کرانا کہ بلوچ جدوجہد کی تسلسل جاری رہیگا اور قومی اجتماعی شراکت کو ممکن بنانا شاید ایکبڑی سنگ میل ہے۔

اسپر میگزین :
روایتی گوریلا جنگ سے جدید عسکری طریقوں کی طرف منتقلی میں جو تبدیلیاں حالیہ برسوں میں آئی ہیں، ان کے پیچھے کیا عوامل اور ضروریات کارفرما تھیں؟

اختر ندیم بلوچ :
محکوم قوموں کی آزادی کی جدوجہد عموماً گوریلا جنگ سے ہی شروع ہوتی ہے، کیونکہ ان کے پاس وہ وسائل، ٹیکنالوجی اور عسکری طاقت موجود نہیں ہوتی جو ایک قابض ریاست کی فوج کو میسر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکوم اقوام روایتی گوریلا مزاحمت کو بطور بنیادی حکمتِ عملی اختیار کرتی ہیں۔ قابض ریاست کے پاس بے پناہ عسکری قوت، جدید ٹیکنالوجی اور مراعات یافتہ فوج ہوتی ہے، جو جدید اسلحہ اور سہولیات سے لیس ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ایک گوریلا جنگجو کے پاس ایسے وسائل نہیں ہوتے۔ اس کی اصل طاقت اس کا قومی جذبہ، جنگی مہارت، مقامی آبادی کی حمایت اور زمینی ساخت سے گہری واقفیت ہوتی ہے۔
بلوچ سرمچاروں کے لیے گوریلا جنگ محض ایک حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک ناگزیر بنیاد ہے، جسے ترک کرنا کسی طور ممکن نہیں ہے۔ تاہم، بدلتے ہوئے حالات اور جنگی تقاضوں کے تحت جدید عسکری طریقوں اور وسائل کا استعمال بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ جہاں بھی جدید ٹیکنالوجی یا جنگی وسائل میسر ہوں، انہیں دشمن کے خلاف استعمال کرنا حکمتِ عملی کا حصہ بنتا ہے۔ درحقیقت مختلف ادوار میں مختلف جنگی حربوں کو اپنانا، اور روایتی گوریلا جنگ کو جدید عسکری تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہی ایک کامیاب مزاحمتی تحریک کی علامت ہوتا ہے۔ یہی ارتقاء اس جدوجہد کو مؤثر، متحرک اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ بناتا ہے۔

اسپر میگزین :
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلوچ جنگِ آزادی اب کلاسیکی گوریلا طرز سے نکل کر ایک بڑے "تزویراتی موڑ” (Strategic Shift) یا منظم جدید جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے؟

اختر ندیم بلوچ :
میری رائے میں بلوچ سرمچار آج بھی تقریباً نوے فیصد تک کلاسیکی گوریلا جنگی حکمتِ عملی پر یقین رکھتے ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا، جنگ میں جدت اور حالات کے مطابق تبدیلی گوریلا جنگ کے فن کا ایک لازمی حصہ ہے۔
جہاں تک ایک مکمل منظم جدید جنگ کی جانب بڑھنے کا تعلق ہے، تو اس عمل کو ایک تدریجی ارتقاء کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی اچانک تبدیلی کے طور پر۔ بعض مواقع پر بلوچ سرمچار دشمن کے خلاف مربوط (coordinated) حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کرتے ہیں۔ ایسے اقدامات محض عسکری کارروائیاں نہیں ہوتے بلکہ ان کا ایک تزویراتی پہلو بھی ہوتا ہے۔ ان کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف دشمن کوعملی نقصان پہنچایا جاتا ہے بلکہ دوست و دشمن اور عالمی سطح پر یہ پیغام بھی دیا جاتا ہے کہ بلوچ سرزمین پر بلوچ سرمچاروں کی موجودگی، دسترس اور قومی شراکت مضبوط اور مؤثر ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ بلوچ جنگِ آزادی اپنی بنیاد میں اب بھی گوریلا جنگ پر قائم ہے، تاہم وقت کے تقاضوں کے مطابق اس میں محدود سطح پر تزویراتی وسعت اور جدیدیت بھی شامل کی جا رہی ہے، جو اس جدوجہد کو زیادہ منظم اور مؤثر بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔

اسپر میگزین :
بی ایل ایف پہلے صرف چینی منصوبوں کو نشانہ بناتی تھی، لیکن اب مغربی کمپنیوں کو بھی ہدف بنایا جا رہا ہے۔ کیا یہ بلوچ مسلح محاذ کی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کی علامت ہے؟

اختر ندیم بلوچ :
دیکھیں، بلوچ قوم کا کوئی تنازعہ چین یا کسی بھی دوسری قوم کے ساتھ نہیں ہے۔ ہمارا مسئلہ صرف پاکستان کے ساتھ ہے، جو ہماری زمین پر قابض ہے اور ہماری سرزمین کے ساحل و قومی وسائل کو لوٹ کر پنجابی مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اس لیے ہر وہ طاقت یا کمپنی جو پاکستان کے ساتھ ہماری وسائل پر قبضے کے لیے معاہدہ کرے، ہمارے لیے دشمن تصور کی جائے گی۔ دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بلوچ سرزمین پر کسی بھی مالیاتی یا سرمایہ کاری منصوبے کی کامیابی بلوچ عوام کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ہمارے اکابرین اور قیادت نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ بلوچ عوام کی خودمختاری اور حق ملکیت کو تسلیم کیے بغیر، کسی بھی سرمایہ کاری یا منصوبے سے گریز کیا جائے۔ یہ اصول بلوچ قومی حقوق اور زمین کی حفاظت کی بنیاد پر طے شدہ ہے۔

اسپر میگزین :
"سدو آپریشنل بٹالین” کی تشکیل اور عالمی کان کنی کے منصوبوں پر حملوں میں اضافہ؛ کیا بی ایل ایف اب جنگ کی شدت کو بین الاقوامی سطح پر محسوس کروانا چاہتی ہے؟


اختر ندیم بلوچ :
تنظیمی وسعت اور جنگ کی شدت اور جدید فوجی حکمت عملی کے لیے ضروری ہے کہ آپریشنل ڈھانچے کو وسعت دی جائے۔ اس ضمن میں آپریشنل بٹالین کا قیام بھی شامل ہے۔ دشمن کے مضبوط مورچوں کو توڑ کر مقصد تک پہنچنے کے لیے پارٹی کو ایک ہارڈ کور بٹالین کی ضرورت تھی، تاکہ وہ سرمچار جو دشمن کے مضبوط حصار کو توڑ کر دشمن کے غرور کو خاک میں ملانے کے لیے انتہائی قربانی دینے کو تیار ہیں، کو شعوری، جسمانی اور فوجی تربیت کا ایک مخصوص پلیٹ فارم میسر ہو۔
‎بی ایل ایف کی ہر جنگی حکمت عملی دشمن کے خلاف ایک منظم اور مربوط طاقت کا مظاہرہ ہے۔ بلوچ سرزمین پر کوئی بھی غیر قانونی معاہدہ جو بلوچ کی مرضی کے خلاف ہو، بی ایل ایف اس کی مزاحمت کرے گی۔ اس لیے بی ایل ایف سوب کی قیام کو قومی ذمہ داری سمجھتی ہے۔

اسپر میگزین :
ایک طرف پاکستانی ریاست کے ساتھ براہِ راست جنگ، اور دوسری طرف چین اور عالمی کمپنیوں کے خلاف محاذ آرائی؛ کیا بیک وقت مختلف محاذ کھولنا تحریک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا؟

اختر ندیم بلوچ :
دیکھیں، بلوچ قوم کا چین یا کسی بھی عالمی مالیاتی ادارے یا قوم کے ساتھ کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ ہم کبھی نہیں چاہتے کہ کسی قوم کے ساتھ ہمارا مسئلہ پیدا ہو۔ ہم دوسروں کے حق ملکیت اور قومی اقدار کا احترام کرتے ہیں لیکن دنیا کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ بلوچ سرزمین جنگ زدہ ہے، اور پاکستانی قابض قوت نے بلوچ نسل کشی، وسائل کی لوٹ مار اور بلوچ سرزمین پر مختلف پالیسیوں کو لاگو کرکے قوم کو نیست و نابود کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ایسے کٹھن حالات میں، اگر بلوچ قوم کی حمایت کے بجائے قابض قوت کا ساتھ دیا جائے، تو یہ دنیا کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔

اسپر میگزین :
پاکستان کی بڑی عسکری قوت اور جدید ٹیکنالوجی کے مقابلے میں بی ایل ایف اپنی جنگی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے اور ریاست کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے؟

اختر ندیم بلوچ :
بی ایل ایف ایک گوریلا فوجی تنظیم ہے، جس کی بنیاد سیاسی اور نظریاتی اصولوں پر ہے۔ دنیا کی مظلوم قومیں جنہوں نے آزادی حاصل کی، ان کی پوزیشن بھی بلوچ قوم سے مختلف نہیں رہی، مگر مضبوط ارادہ، مسلسل جدوجہد اور فولادی اعصاب رکھنے والے جہد کاروں نے بڑے بڑے طاقتور ایمپائرز کو شکست دی ہے۔
ہمیں اپنے ہمسایہ ملک افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج اور نان نیٹو اتحادیوں کے خلاف افغان گوریلا وارفیئر سے سبق لینا چاہیے، جہاں قابض قوتیں اپنی قبضہ شدہ زمینیں قبل از وقت چھوڑ کر چلی گئیں۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ جنگ کا اصل انحصار جدید ہتھیاروں پر نہیں بلکہ مستقل جدوجہد، صبر اور عزم پر ہے۔ ہمیں دشمن کی ہر سکونت اور ہر مفاد کو نقصان پہنچانا ہے تاکہ اسکے پاس ہماری زمین سے نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔ بی ایل ایف کی یہ حکمت عملی اور مستعدی ہی اس جنگ میں ہماری بقا اور قابض ریاست کے مقابلے کی ضمانت ہے۔

اسپر میگزین :
گزشتہ بیس سالہ طویل جدوجہد کے بعد، آج آپ بلوچ تحریکِ آزادی کوکامیابی کی کس مقام پر کھڑا دیکھتے ہیں؟

اختر ندیم بلوچ :
جی بلوچ تحریک جہدکاروں کی قربانیوں، محنت، اپنے مقصد سے بے پناہ محبت اور وابستگی کی وجہ سے آج ہر بلوچ پیر و ورنا جدوجہد آزادی کی حمایت اور اپنی شراکت کو ایمان کا حصہ سمجھتی ہے۔ دشمن کے تمام ظلم ؤ جبر کے باجود اپنے سرمچاروں کے ساتھ دے رہے ہیں جو جہد کی مظبوطی اور کامیابی ہے۔

اسپر میگزین :
مسلح محاذ پر بیس سالہ طویل جدوجہد کے بعد، آپ بلوچ نوجوانوں اور نئی نسل کی اس تحریک میں شمولیت اور ان کے سیاسی و فکری شعور کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا یہ جنگ صرف بندوق کے زور پر لڑی جا رہی ہے یا اسے عوامی اور فکری حمایت بھی حاصل ہے؟

اختر ندیم بلوچ :
بلوچ تحریک کے گزشتہ خون آشوب دور نے نئی نسل میں جذباتیت اور مہم جوئی جیسے عناصر کو یکسر ختم کر دیا ہے۔ آج کے نوجوان سیاسی شعور اور جنگی ہنر و علوم سے لیس ہیں۔ تاریخی حقائق اور جدید جنگی علوم سے مزین نوجوانوں کی شمولیت نے بلوچ جہد آزادی کی تحریک کو منظم اور مضبوط بنا دیا ہے۔
‎بلوچ نوجوان اور تحریک سے وابستہ رہنما بندوق کے استعمال کو صرف ایک ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن جدوجہد کے تمام علمی اور شعوری عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جدید جنگی حکمت عملی اور سیاسی نظریہ دونوں نوجوانوں کی تربیت کا حصہ ہیں۔

اسپر میگزین :
آنے والے سالوں میں آپ اس جنگ کا رخ کیا دیکھتے ہیں؟ کیا یہ تحریک اپنے منطقی انجام (آزادی) کے قریب پہنچ چکی ہے؟

اختر ندیم بلوچ :
موجودہ عالمی سیاسی ماحول انتہاہی ہیجانی کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ ریاست پاکستان اب اپنی اندرونی ریاستی ساخت کھو چکی ہے اور کوئی بھی ریاستی ادارہ کارآمد ثابت نہیں ہو رہا۔ بلوچ تحریک میں شامل قیادت کا موقف دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ پاکستان کو آکسیجن دینے والے ممالک اب اس کے مکروہ چہرے سے اچھی طرح واقف ہو چکے ہیں۔ لہٰذا جس دن یہ مصنوعی آکسیجن فراہم کرنے والے اپنے ہاتھ کھینچ لیں گے، پاکستان کی اس غیر فطری ساخت میں جان باقی نہیں رہے گی۔ تاہم بلوچ تحریک کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز کو وقت اور اپنی متحدہ طاقت کے فوائد کا ادراک ضرور کرنا چاہیے اور مشترکہ اور متحرک جدوجہد کے تسلسل اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانا چاہیے۔ آزادی کی منزل ہماری اتحاد، طاقت اور شعوری ادراک پر مشتمل ہے، نہ کہ تصوراتی اور خام خیالی کی دنیا میں رہ کر ہم اسے حاصل کر سکتے ہیں۔

٭٭٭

Share This Article