بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال شدید تناؤ کا شکار ہے، مسلح افراد کے مربوط حملے گذشتہچار دنوں سے جاری ہیں ۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق منگچر، ضلع قلات میں پاکستانی فورسز کے ایک کیمپ پر ڈرون حملے کیے گئے، جبکہ کوئٹہ میں ایک غیرمقامی تاجر کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔
منگچر کے مقامی ذرائع کے مطابق، ایک کالج میں قائم پاکستانی فورسز کے کیمپ کو پانچ ڈرونز نے نشانہ بنایا، جنہوں نے مختلف پوزیشنز پر حملے کیے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب گزشتہ روز اسی علاقے میں نو سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر بیک وقت حملے کیے گئے تھے۔
یہ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی جانب سے ڈرونز کے استعمال کا دوسرا بڑا حملہ ہے۔
اس سے قبل گوادر میں ڈرون حملے کے بعد تنظیم نے اپنے پہلے فضائی یونٹ “QAHR – Qazi Aero Hive Rangers” کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
تنظیم کے مطابق بلوچستان بھر میں ان کے "کوآرڈینیٹڈ آپریشنز” جاری ہیں۔
دوسری جانب کوئٹہ کے ہزار گنجی علاقے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک غیر مقامی تاجر، احتشام گجر کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔
حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
بلوچستان میں حالیہ حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھا دیے ہیں، جبکہ حکام کی جانب سے تاحال ڈرون حملوں پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔