آزادی پسند بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ٹوئٹر “ پر اپنے نئے آفیشل اکاﺅنٹ کے پہلے ٹویٹ میں بلوچستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ
”پاکستان نے نہ صرف ہماری زمین اور وسائل چھین لئے بلکہ ہمیں اپنی روایتی رسومات اور جنازے ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان ابھی بھی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کا ممبر کیوں ہے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود، دنیا اس پر خاموش ہے۔“
واضع رہے کہ بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچستان میںپاکستانی فوج کی ننگی جارحیت اورجنگی جرائم کی کارروائیوں پر ٹویٹ کرتے رہتے ہیں لیکن گذشتہ مہینے پاکستانی فوج کے سائبر ٹیمنے ”ٹوئٹر“ حکام کو گمرا ہ کرکے اس کے اکاﺅنٹ کو بند کرادیا تھا جس پر بلوچ حلقوں سمیت انسانی حقوق صورتحال پر آوازاٹھانے والوں نے اسے آزادی اظہار رائے پر قدغن قرار دیا تھااور ٹوئٹر حکام کو ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے اکاﺅنٹ کو بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
اس سے قبل بھی ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پاکستانی فوج کے سائبر ٹیم کے شکایت پرٹوئٹر حکام نے بند کر دیے تھے اور یہ چوتھا اکاﺅنٹ ہے ۔