جیونی میں غیر قانونی ٹرالرنگ کیخلاف ماہیگیر سراپا احتجاج، کوسٹل ہائی وے بلاک

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ضلو گوادر کے ساحلی شہر میں گجہ مافیا اور غیر قانونی ٹرالرنگ کے خلاف فشر ورکر یونین جیونی کی کال پر جیونی میں مکمل شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی گئی۔

ماہیگیروں نے غیر قانونی فشنگ کے خلاف جیونی شہر میں ریلی نکالی جوشہر کے مختلف سڑکوں پر گشت کرتی ہوئی کوسٹل ہائی وے پہنچ گئی۔ جہاں ماہیگیروں نے احتجاجاً جیونی کوسٹل ہائی وے کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند کرکے دھرنا دیا جو ہنوز جاری ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ محکمہ فشریز حکومتِ بلوچستان کی جانب سے گ±جہ جال (وائرنٹ) استعمال کرنے اور 12 نائیٹکل مائل سمندری حدود میں ٹرالرنگ پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔لیکن بلوچستان کے سمندری حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ٹرالر جیونی سمیت بلوچستان کی ساحلی علاقوں میں ایک سے دو نائیٹیکل مائل پر آکر غیرقانونی ماہیگیری میں مصروف ہے اورسرکارمکمل چھپ ہے ۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وائرنٹ استعمال کرنے سے مچھلیوں کی نسل کشی ہورہی ہے۔ٹرالر مافیا سمندر میں شکار کرنے والے ماہیگیروں پر تشدد کرتے رہتے ہیں اور مقامی ماہیگیروں کے جال کو کاٹ کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

احتجاجی ماہیگیروں کے مطابق محکمہ فشریز اور حکومتِ بلوچستان ٹرالر مافیا کے خلاف ایکشن لینے سے نا معلوم وجوہات کی بنا قاصر ہیں اور وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

واضع رہے کہ بلوچستان کے سمندر میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت کی سرپرستی میں غیر قانونی فشنگ کی جاتی ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کے چھوٹے کشتیوں والے ماہیگیرنان شبینہ کے محتاج ہوکر رہ گئے ہیں۔اور یہ سلسلہ گذشتہ دو دہائیوں سے چلی آرہی ہے لیکن اب یہ مکمل طور پر ایک بلیک انڈسٹری کی صورت اختیار کر چکی ہے ۔

Share This Article
Leave a Comment