گیارہ جماعتی حکومت مخالف اتحاد، پی ڈی ایم کاجلسہ کراچی کے جناح باغ میں جاری ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربراہ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ اس ملک میں آزاد صرف آئین توڑنے والے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ٹریفک سگنل توڑنے پر جرمانہ ہوتا ہے ملک میں کئی مرتبہ آئین توڑا گیا لیکن کبھی آپ نے دیکھا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی کاٹا گیا ہو۔
’ایوب، مشرف کو غازی کہا جاتا ہے لیکن ہم جنہوں نے خون دیا اس دھرتی کے لیے انھیں غدار کہا جاتا ہے۔ یہ ملک اس ملک میں بسنے والی عوام کے لیے بنایا گیا ہے یا کنٹونمنٹ کے لیے بنایا گیا ہے یا پیزا والوں کے لیے بنایا گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ہم ساحل کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے اب سندھ کے جزیروں پر قبضہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ آپ قبضہ گیر ہیں۔ چاہے ساحل کتنا بھی چھوٹا ہو ہم اس پر قبضے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’گوادر کے ماہی گیر بے روز گاری کے عالم میں ہیں۔ وہ سمندر میں میجر صاحب کی پرچی کے ساتھ جا سکتا ہے۔ ہمارا سمندر، ہمارا ساحل، پرتگالیوں سے لڑ کر ساحل کی حفاظت کی۔ ہماری نسل کشی شروع ہو گئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ بلوچستان اس خطے میں وہ بدبخت علاقہ ہے جہاں آپ کو اجتماعی قبریں ملیں گی۔ یہ وہ علاقہ ہے جس میں کراچی یونیورسٹی کے طلبا حیات بلوچ کے ایف سی کے اہلکار نے ہاتھ پیر باندھ دیے۔ ماں کے سامنے اسے گولیاں مار دی گئیں۔
’یہ ظلم آپ نے کشمیر اور فلسطین میں سنے ہوں گے لیکن میں آپ کو بلوچستان کے قصے سنا رہا ہوں۔ ہماری ماو¿ں، بہنوں کو پتا چلتا ہے کہ ہسپتال میں ایک مسخ شدہ لاش لائی گئی ہے وہ جب وہاں پہنچتی ہیں تو تشدد زدہ لاشوں کو کپڑوں سے پہچانتی ہیں۔ یہ ہے اسلامی پاکستان۔۔۔۔ برداشت کی بھی حد ہوتی ہے۔‘
اختر مینگل نے کہا ہم جمہوریت کے حامی ہیں۔ ‘میں اس جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں جس میں مجھے یہ بات پتا ہو کہ میری ماں بہنوں کی عزت محفوظ ہو گی، میرے جوانوں کی مسخ شدہ لاشیں نہیں ملیں گی۔
’جس میں مجھے پتا ہو کہ میرے بزرگوں کی پگڑیاں نہیں اچھالی جائیں گی۔ جمہوریت کے لیے جان مال ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔۔۔‘