بھارتی سپریم کورٹ نے آج ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے آرمی میں خواتین کو بھی مرد افسران کے مساوی اختیارات اور مستقل کمیشن دینے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس اجے رستوگی کی بنچ نے کہا کہ خواتین کی جسمانی خصوصیات کا ان کے اختیارات سے کوئی تعلق نہیں ہے اوران کے حوالے سے دقیانوسی سوچ والی ذہنیت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
عدالت نے حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے دلائل تفریق پر مبنی،پریشان کن اوردقیانوسی ہیں۔ حکومت نے اپنی دلیل میں کہا تھا کہ مرد فوجیوں کی ابھی تک خواتین کو کمانڈر کے روپ میں تسلیم کرنے کی تربیت ہی نہیں ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ان کو زچگی، ماں بننے اور بچوں کی نگہداشت جیسی ذمہ داریاں درپیش رہتی ہیں۔ اس پر عدالت نے کہا کہ صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک کرنا خواتین کے وقار کے منافی اور ملک کی توہین ہے۔ عدالت عظمٰی نے خواتین کی صلاحیت اور قابلیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کمانڈ پوسٹ پر بھی تعینات کیے جانے کا پورا حق ہے۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو تین ماہ کے اندر فیصلہ نافذ کرنے کاحکم دیا۔
سابق لیفٹیننٹ جنرل اتپل بھٹاچارجی نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا”یہ خیال کہ خواتین بھی فوج کی کمان کرسکتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سال یوم جمہوریہ پریڈ اور آرمی ڈے پریڈ کے موقع پر پریڈ کرنے والے دستے کی کمان ایک خاتون افسر نے کی تھی لیکن اصل بات یہ ہے کہ مذکورہ خاتون افسر کی چارنسلیں فوج سے وابستہ رہی ہیں اس لیے انہوں نے نہایت سمجھ بوجھ اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو انجام دیا۔ انجینئرنگ کور کی کچھ کمپنیوں میں خواتین نے کمان سنبھالی ہے لیکن فیلڈ کمانڈر بننے میں کچھ مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔“
جنرل بھٹا چارجی کا مزید کہنا تھا”اسرائیل میں خواتین بھی وارزون میں جاکر جنگ لڑتی ہیں لیکن ہمارے ملک میں ابھی اس میں وقت لگے گا کیوں کہ ابھی ہم بہت سے معاملات میں پیچھے ہیں اور اگر خواتین کو بھی وارز ون میں قیادت کرنے کے لیے بھیج دیا جائے توکچھ گڑبڑ ہوسکتی ہے۔ ملک میں کئی محاذوں پر ترقی ہونی چاہیے اس کے بعد ہی خواتین وارزون کی کمان سنبھال سکیں گی۔“
سابق فوجی سربراہ اور موجودہ چیف آف ڈیفینس اسٹاف جنرل بپن راوت نے دو برس قبل یہ کہہ کر تنازع کھڑا کردیا تھا کہ خواتین کو ابھی زیادہ پرائیوسی اور تحفظ کی ضرورت ہے اور بھارت ابھی محاذ پر مرنے والی خواتین کی لاش اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ٹینا شیرگل بھارت کے یوم جمہوریہ پر بھارتی فوج کی پریڈ کی قیادت کر رہی ہیں۔
دوسری طرف خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں نے عدالت کے فیصلے کی تعریف کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمان اور سپریم کورٹ کی وکیل میناکشی لیکھی نے عدالت کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ”اس فیصلے کے لیے میں عدالت کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ سپریم کورٹ نے آج واضح لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ جو اختیارات مرد افسران کے پاس ہیں وہی اختیارات خواتین افسران کو بھی حاصل ہوں گے۔ وہ اب کمانڈنگ پوسٹ اور دیگر پوسٹوں پر بھی فائز ہوسکیں گی۔ وہ جہاں تک چاہے ترقی کرسکتی ہیں اس کی کوئی حد نہیں ہوگی۔“
یہ امر قابل ذکر ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے 2010 ءمیں خواتین کو بھی مرد افسران کے مساوی اختیارات دینے سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ شارٹ ٹرم کمیشن کے ذریعہ آرمی میں بھرتی ہونے والی خواتین بھی مردوں کی طرح مستقل کمیشن کی حقدار ہیں۔ مرکزی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔
مرکزی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے نو برس بعد فروری 2019 ءمیں ایک نوٹیفیکشن جاری کیا تھا جس کے تحت خواتین فوجی افسران کو فوج کی مجموعی طورپر دس شعبوں میں مستقل کمیشن دینے کی اجازت دے دی گئی تھی لیکن یہ صرف ان خواتین افسران کے لیے تھی جو چودہ برس سے کم مدت سے سروس میں ہوں۔ اس کے علاوہ یہ اجازت صرف اسٹاف پوسٹنگ کے لیے تھی، کمانڈ پوسٹنگ کے لیے نہیں۔ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کے بعد یہ دونوں پابندیاں ختم ہوگئی ہیں۔
رکن پارلیمان میناکشی لیکھی کا کہنا تھا ”اس معاملے پر فیصلہ آنے میں دس برس کا وقت لگ گیا۔ حالانکہ 2018 ءمیں ہی بھارت سرکار نے اس کا ارادہ کیا تھا اور وزیر اعظم نے لال قلعہ کی فصیل سے یہ بات کہی بھی تھی لیکن اس میں تھوڑی تاخیر ہوئی۔ حکام نے اسے نافذ نہیں کیا اور آرمی اتھاریٹیز نے جس طرح گمراہ کیا تھا عدالت نے اس کے بار ے میں بھی آبزرویشن دی ہے۔“
بھارت میں اس وقت خواتین فوج میں دس سے چودہ برس کے شارٹ سروس کمیشن کے تحت منتخب کی جاتی ہیں۔ انہیں صرف آرمی سروس کور، اسلحہ،تعلیم، انصاف، انجینئرنگ، سگنل، انٹلی جنس، الیکٹریکل اور میکانیکل انجینئرنگ کے شعبوں میں تعینات کیا جاتا ہے۔ آرمی میں اس وقت خواتین کی تعداد تین اعشاریہ آٹھ فیصد، فضائیہ میں تیرہ فیصد اور بحریہ میں چھ فیصد ہے۔