بلوچستان میں پولیو وائرس کے مزید 2 نئے کیسز سامنے آگئے ہیں، جس کے بعد رواں سال کے دوران بلوچستان میں معذور کردینے والے اس وائرس کے کیسز کی تعداد 23 ہوگئی۔
صوبائی محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ ان 2 کیسز میں سے پہلے کیس کی تصدیق کوئٹہ کے چلٹن ٹاو¿ن میں ایک 4 سالہ بچے میں ہوئی۔
محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ پولیو کے دوسرے کیس کی تشخیص ضلع پشین کی تحصیل برشور میں ایک 15 ماہ کے بچے میں ہوئی۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ متاثرہ بچوں کے نمونے کچھ دن پہلے حاصل کیے گئے تھے جس کے بعد لیبارٹری رپوٹ نے بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق کردی۔
یاد رہے کہ ان 2 نئے کیسز کے بعد بلوچستان میں رواں سال پولیو کے کیسز کی تعداد بڑھ کر 23 تک پہنچ گئی ہے۔
ضلع کوئٹہ میں اب تک پولیو وائرس کے 3 کیسز سامنے آچکے ہیں، اس کے علاوہ پشین، قلعہ عبداللہ اور صوبے کے دوسرے حصوں سے بھی پولیو کیسز رپوٹ ہوئے ہیں۔
کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبداللہ میں ہزاروں لوگوں کی جانب سے ویکسی نیشن سے انکار کے باعث پر ان علاقوں کو پولیس وائرس کے حوالے سے حساس قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری ایک بیان میں اپیل کی گئی کہ ’والدین ویکسی نیشن مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کو یقینی بنائیں‘۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک ہیں جو اب بھی اس وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی) نے پاکستان میں پولیو وائرس کی صورتحال کو انتہائی پریشان کن اور مایوس کردینے والی قرار دیا کیونکہ وائلڈ پولیو وائرس خیبر پختونخوا کے جنوبی حصے کے ساتھ ساتھ کراچی اور کوئٹہ کے پانی کے ذخائر میں پھیل رہا ہے۔
آئی بی ایم نے خبردار کیا ہے کہ ’اگر بڑے پیمانے پر کوئی ویکسینیشن نہ کروائی گئی تو سال کے اختتام سے تک کووڈ 19 سے قبل لگائے گئے اندازے سے کہیں زیادہ پولیو کیسز سامنے آئیں گے‘۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں گلوبل پولیو ایریڈیکیشن ایجوکیشن کے پولیو کی تشخیص اور اس کی روک تھام کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کا آزادانہ جائزہ لینے کے لیے دنیا کے بہترین صحت کے ادارے مدد فراہم کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ صحت کی عالمی تنظیم پولیو کی منتقلی کا کھوج لگانے اور اس میں رکاوٹ سے متعلق پولیو کے خاتمے کے عالمی اقدام کی جانب سے کی جانے والی پیش رفت کی آزادانہ تشخیص فراہم کرتی ہے۔