ایک حالیہ سروے سے پتا چلا ہے کہ 18 سے 24 سال کی عمروں کے ہر 10 میں چار عرب نوجوان اپنا آبائی وطن چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں آباد ہونے کے خواہش مند ہیں۔
17 عرب ملکوں میں کرائے گئے اس سروے میں 4000 نوجوانوں کے انٹرویوز کیے گئے، جس کے نتائج کا اعلان 6 اکتوبر کو کیا گیا ہے۔
اس سروے کا اہتمام دبئی کی کمیونیکیشنز ایجنسی ‘اسدا’ز بورسن کوہن اینڈ ولف’ نے کیا تھا۔ جس سے ظاہر ہوا کہ شمالی افریقہ کے عرب ملکوں کے 47 فی صد نوجوان ملک چھوڑنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جب کہ مشرقی بحیرہ روم کے عرب خطے کے 63 فی صد نوجوان اپنے آبائی وطن کو خیرباد کہنا چاہتے ہیں۔
یہ سروے دو مراحل میں کرایا گیا۔ پہلے مرحلے میں جنوری اور مارچ کے دوران 3400 عرب نوجوانوں کے انٹرویوز کیے گئے، جب کہ دوسرا مرحلہ اگست میں ہوا، جس میں 600 نوجوانوں کو شامل کیا گیا۔
نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ سروے میں شامل 42 فی صد عرب نوجوان کسی دوسرے ملک میں جانے پر غور کر رہے ہیں۔ جب کہ 15 فی صد وطن چھوڑنے کے لیے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لا رہے ہیں۔
سروے میں بتایا گیا ہے کہ اپنے ملک سے نقل مکانی کرنے کی سب سے شدید خواہش مشرقی بحیرہ روم کے قریب واقع عرب ملکوں کے نوجوانوں میں پائی گئی۔ اس خطے میں مصر، شام، عراق، فلسطین، اردن اور لبنان وغیرہ شامل ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جنہیں امن و امان، روزگار، تشدد اور عدم استحکام سمیت کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔
اس خطے کے 63 فی صد نوجوان ملک چھوڑنے کے خواہش مند ہیں جب کہ ان میں سرفہرست اندورنی خلفشار، تنازعات اور بے روزگاری سے متاثرہ ملک لبنان ہے، جہاں کے 77 فی صد نوجوان کسی اور ملک میں آباد ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔
الجزیرہ میں شائع ہونے والے اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ عرب خطے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دو ایسے ممالک ہیں جہاں کے نوجوانوں کو کسی دوسرے ملک میں نقل مکانی کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہاں صرف تین فی صد نوجوانوں نے سروے میں کہا کہ وہ اپنا وطن چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ وہاں کی مضبوط معیشت اور استحکام ہے۔
سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اپنا وطن چھوڑنے کے خواہش مند عرب نوجوان اپنے ملک کی کمزور قیادت، بڑے پیمانے پر بدعنوانی، کرپشن اور ناکام معیشت کے باعث ان ملکوں میں جانا چاہتے ہیں جہاں انہیں روزگار اور تحفظ مل سکے۔
77 فی صد نوجوانوں نے بتایا کہ ان کے ملک میں کرپشن اور بدعنوانی موجود ہے۔
کوووڈ 19 کے پھیلاو¿ نے بھی کمزور معیشت کے حامل ان عرب ملکوں میں صورت حال کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔ 20 فی صد نوجوانوں نے بتایا کہ کرونا وائرس کے پھیلاو¿ کی وجہ سے یا تو وہ خو د روزگار سے محروم ہو گئے، یا ان کے گھر کے کسی فرد کا روزگار جاتا رہا۔
72 فی صد نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں روزگار ڈھونڈنا بہت مشکل کام ہے۔ روزگار کی سب سے زیادہ شکایت لبنان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے کی، جن کی شرح 91 فی صد رہی، جب کہ اردن میں یہ تناسب 90 فی صد تھا۔
35 فی صد نوجوانوں نے بتایا کہ وہ مقروض ہو چکے ہیں جب کہ ایک سال پہلے 2019 میں یہ شرح 21 فی صد تھی۔
الجزیرہ، سوڈان، لبنان اور عراق کے نوجوانوں کی اکثریت یعنی 80 فی صد نے بتایا کہ انہوں نے 2019 میں اپنے ملکوں میں حکومت کے خلاف مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ لیکن حالات تبدیل نہ ہونے کی وجہ سے وہ مایوس ہیں اور اپنا مستقل بنانے کے لیے کسی دوسرے ملک میں جانا چاہتے ہیں۔