مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سولہویں روز میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان سخت بیانات نے جنگ بندی کے کسی بھی امکان کو مزید دور کر دیا ہے۔ خطے میں بڑھتے حملوں، تباہ شدہ شہروں اور ہلاکتوں میں اضافے نے انسانی بحران کو شدید تر بنا دیا ہے۔
اب تک کی ابتدائی مجموعی علاقائی ہلاکتوں کی دستیاب اعدادو شمار کے مطابق تقریباً 2,346 سے زائدافراداپنی جانیں گنوا بیٹھیں۔ جن میں ایران میں 1,444، لبنان میں 850 ،اسرائیل میں 15، امریکہ کی 13، خلیجی ممالک میں 19 اور عراق میں 5شامل ہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جنگ بندی کے لیے مذاکرات چاہتا ہے، تاہم ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے نہ کبھی جنگ بندی کی درخواست کی اور نہ ہی مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔
اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید بڑھا رہا ہے اور اس کے پاس اب بھی "ہزاروں اہداف” موجود ہیں۔ ایران کی جانب سے بھی خطے کے مختلف ممالک میں ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران میں امریکی–اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1,444 افراد ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
تہران سمیت کئی شہروں میں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، جبکہ انٹرنیٹ کی بندش سے مواصلاتی نظام شدید متاثر ہے۔
اسرائیل میں اب تک 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
تل ابیب کے کئی علاقوں میں کلسٹر بموں سے نقصان کی اطلاعات ہیں۔
مختلف حملوں میں 13 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
بغداد ایئرپورٹ سمیت کئی امریکی تنصیبات پر راکٹ حملے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
خلیجی ممالک میں مجموعی طور پر 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
بحرین، UAE اور عمان نے متعدد میزائل اور ڈرون حملے روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔
فجیرہ (UAE) میں ڈرون ملبے سے تیل تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 850 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
عراقی دارلحکومت بغدادمیں ایئرپورٹ پر راکٹ حملوں اور امریکی تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔
ایک امریکی ری فیولنگ طیارہ گرنے سے 5 افراد ہلاک ہوئے ۔
ایران میں شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر لڑائی جاری رہی تو ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔
اسرائیل نے بیروت کے مختلف علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں۔
عالمی توانائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ تیل کے ہنگامی ذخائر ایشیا اور اوشیانا میں فوری طور پر دستیاب ہوں گے۔
برطانوی وزیرِ اعظم اور امریکی صدر کے درمیان آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت ہوئی ہے۔
ایران اور اسرائیل دونوں نے مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ امریکہ نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت کسی سفارتی حل کے لیے تیار نہیں۔
جنگ کے پھیلاؤ نے خلیج، عراق، لبنان اور اسرائیل کو براہِ راست متاثر کیا ہے، اور ماہرین کے مطابق اگر لڑائی اسی رفتار سے جاری رہی تو خطے میں انسانی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔