تمپ و واشک میں پاکستانی فو ج وڈیتھ اسکواڈ پر حملوں میں6 اہلکار ہلاک، ایک گرفتار اوراسلحہ ضبط کئے،بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں تمپ اور واشک میں پاکستانی فوج اورریاستی ڈیتھ اسکواڈ پر حملوں میں فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے تین تین اہلکاروں کی ہلاکت سمیت ایک کوگرفتار اور اسلحہ و ساز و سامان ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 16 مارچ 2026 کو تمپ کے علاقے ملانٹ میں قائم قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر ایک مربوط و منظم حملہ کیا۔ سرمچاروں کے دستوں نے حکمت عملی کے تحت دشمن کے کیمپ کو مختلف اطراف سے گھیرے میں لے کر انتہائی قریب سے شدید حملہ کردیا۔
 
انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں سرمچاروں نے بی-10 82 ایم ایم راکٹ، اسنائپرز، آر پی جیز اور گرنیڈ لانچرز سمیت دیگر بھاری ہتھیاروں سے قابض فوج کے کیمپ کو موثر طور پر نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے کم از کم تین اہلکار موقع پر ہلاک اور چار شدید زخمی ہو گئے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے نگرانی کی غرض سے کیمپ پر نصب کیمروں کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، اور بھاری گولہ باری سے کیمپ کی اہم تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا۔ بعدازاں فوج کے ہلاک و زخمی اہلکاروں کی منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر آگئے۔
 
تنظیم کے مطابق ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 17 مارچ 2026 کی صبح 7 بجے واشک کے علاقے گراڑی میں تنظیمی انٹیلی جنس کی مصدقہ اطلاعات پر ریاستی سرپرستی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کارندوں کے خلاف ایک کامیاب کارروائی سرانجام دی۔ قابض فوج کی سرپرستی میں سرگرمِ عمل ڈیتھ اسکواڈ کے مسلح کارندے سی پیک شاہراہ پر عارضی ناکہ بندی قائم کر کے وہاں سے گزرنے والے گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو ہراساں کرنے اور ان سے جبری بھتہ وصولی میں مصروف تھے کہ سرمچاروں کے ایک دستے نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کو گھیرے میں لے کر نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ڈیتھ اسکواڈ کے تین کارندے ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک کارندے کو سرمچاروں نے گرفتار کر لیا جو اس وقت تنظیم کی حراست میں ہے۔
 
بیان میں کہا گیا کہ یہ مسلح گروہ مقامی سردار علی حیدر محمد حسنی کی سرپرستی میں ریاستی ایما پر ٹرانسپورٹرز سے بھتہ خوری سمیت بلوچ دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ اس گروہ کی سربراہی سرور نامی ڈیتھ اسکواڈ کارندہ کر رہا تھا۔ ہلاک ہونے والے کارندوں میں سے ایک کی شناخت کہور عرف منان ولد مرید سکنہ مشکے کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ بقیہ دو ہلاک شدگان کی شناخت تاحال نامعلوم ہے۔ گرفتار ہونے والے کارندے کی شناخت چاکر ولد شیر محمد سکنہ ناگ کے طور پر ہوئی ہے، جس سے تفتیش جاری ہے۔ سرمچاروں نے کارروائی کے دوران ان کارندوں کے زیرِ استعمال تمام جنگی اسلحہ و سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا اور ان کی گاڑی کو نذرِ آتش کر دیا۔
 
انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ تمپ کے علاقے ملانٹ میں فوجی کیمپ پر حملے اور واشک کے علاقے گراڑی میں ڈیتھ اسکواڈ کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے ہماری ہٹ لسٹ پر ہیں۔ جو بھی بلوچ قومی تحریک کے خلاف سرگرمِ عمل ہوگا، اسے اس کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔

Share This Article