سبی وکراچی سے 4 نوجوان جبری لاپتہ ، خاتون سمیت 5 افراد بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے علاقے سبی اور کراچی سے پاکستانی فورسز ہاتھوں 4نوجوان جبری طور پر لاپتہ ہوگئے جبکہ خاتون سمیت جبری گمشدگی کے شکار 5 افراد بازیاب ہوگئے۔

گزشتہ روز فورسز نے سبی کے مختلف علاقوں لونڑی، گژک اور گلو میں چھاپے مارے اور ان چھاپوں کے دوران دو افراد کو حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ان دو جبری لاپتہ کیے جانے والے افراد کی شناخت محمد مری ولد جوان سال اور لہرو مری ولد مٹو کے نام سے بتائی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں افراد کو فورسز نے چھاپے کے دوران حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

اسی طرح سندھ کے شہر کراچی سے بلوچستان کے مزید دو رہائشی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہوگئے ۔

تفصیلات کے مطابق عاصم ولد اصغر کو رواں سال 16 مارچ کی رات کراچی سے رینجرز اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔

لواحقین کے مطابق عاصم، جو پیشے کے لحاظ سے تاجر ہیں اور پنوان (جیونی) کے رہائشی ہیں، کو 16 مارچ کی رات تقریباً 12 بجے کراچی کے علاقے شاہ علی شرافی گوٹھ سے رینجرز اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔

ذرائع کے مطابق حراست میں لیے جانے کے بعد سے عاصم کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی، جس پر اہلِ خانہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دریں اثنا، شبیر بلوچ ولد حاجی قادر بخش، سکنہ زہری خضدار، کو گزشتہ سال 13 نومبر کو کراچی کے نرسنگ ہاسٹل سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔

لواحقین نے دونوں افراد کی فوری بازیابی کی اپیل کی ہے۔

علاوہ ازیں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے 5 مزید افراد کی بازیابی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جنہیں مختلف مقامات پر رہا کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ضلع پنجگور کے علاقے عیسی سے تعلق رکھنے والی خاتون فاطمہ بنت محمد جان کو پاکستانی فورسز نے 13 جنوری 2026 کو لاپتہ کیا تھا، جنہیں 16 مارچ 2026 کو حب چوکی کے مقام پر رہا کیا گیا۔

اسی طرح گوادر کے علاقے پانوان جیونی سے تعلق رکھنے والے دو افراد زعیم ولد محمد رحیم اور کمبر ولد امام بلوچ، جنہیں 10 مارچ 2026 کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا، کو 15 مارچ 2026 کو گوادر میں رہا کر دیا گیا۔

مزید برآں مستونگ سے تعلق رکھنے والے سعید احمد ولد محمد اکبر، جو 11 دسمبر 2025 سے لاپتہ تھے، کو 7 مارچ 2026 کو کوئٹہ میں رہا کیا گیا۔

ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ سے تعلق رکھنے والے دلدار ولد حسین، جنہیں 25 اگست 2025 کو پاکستانی فورسز نے لاپتہ کیا تھا، کو 13 مارچ 2026 کو تربت میں بازیاب کیا گیا۔

Share This Article