امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ ایران پر حملے کے خلاف احتجاجا مستعفی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف حملے پر احتجاجا مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے استعفے کے اعلان میں جو کینٹ نے کہا کہ ’اپنے ضمیر کے خلاف جا کر ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔‘

امریکی سینیٹ نے گزشتہ جولائی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے اس عہدے کے لیے جو کینٹ کو نامزد کیے جانے کے بعد ان کی تقرری کی منظوری دی تھی۔

ٹرمپ کے نام اپنے استعفے کے خط میں جو کینٹ نے لکھا کہ ’ایران نے ہمارے ملک کے لیے کوئی فوری خطرہ پیدا نہیں کیا تھا، اور یہ واضح ہے کہ ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور اس کے طاقتور امریکی لابی کے دباؤ کے تحت شروع کی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ ان اقدار اور خارجہ پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جن پر ٹرمپ نے 2016، 2020 اور 2024 کی انتخابی مہم چلائی اور اپنی پہلی مدتِ صدارت میں نافذ کیں۔

کینٹ نے لکھا کہ ’جون 2025 تک آپ سمجھتے تھے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ایک جال ہیں جو امریکہ کے محبِ وطن جوانوں کی قیمتی جانیں چھینتی ہیں اور ہمارے ملک کی دولت و خوشحالی کو ختم کرتی ہیں۔‘

انھوں نےلکھا کہ ’ میں ایک تجربہ کار سپاہی کے طور پر گیارہ بار محاذ جنگ پر گیا اور ایک ’گولڈ سٹار شوہر‘ جس نے اپنی شریک حیات شینن کو اسرائیل کی جھونکی جنگ میں کھو دیا۔‘

انھوں نے لکھا ’میں اس بات کی حمایت نہیں کر سکتا کہ اگلی نسل کو ایسی جنگ میں دھکیلا جائے جس کا امریکی عوام کو کوئی فائدہ نہیں اور جس کی قیمت امریکی جانوں سے ادا کی جائے۔‘

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاؤنٹر ٹیررازم ڈائریکٹر جو کینٹ کے استعفے کے بارے میں اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’میں انھیں اچھی طرح نہیں جانتا تھا، لیکن جب میں نے ان کا بیان پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ ان کا جانا بہتر ہے۔‘

یاد رہے کہ امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف حملے پر احتجاجا مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایران میں جاری جنگ کی اپنے ضمیر کے خلاف جا کر حمایت نہیں کر سکتے۔

ٹرمپ نے ان کے الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ ’میں نے ان کا بیان پڑھا۔ میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ وہ اچھے انسان ہیں لیکن سکیورٹی کے معاملے میں کمزور تھے، بہت کمزور۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میں انھیں اچھی طرح نہیں جانتا تھا، لیکن جب میں نے ان کا بیان پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ ان کا جانا بہتر ہے، کیونکہ انھوں نے کہا کہ ایران کوئی خطرہ نہیں تھا۔‘

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ایران ایک خطرہ تھا، ہر ملک نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایران کتنا بڑا خطرہ ہے۔‘

Share This Article