کراچی : جبری گمشدگیوں کیخلاف ”لاپتہ افراد آزادی مارچ“،گورنر ہائوس سامنے دھرنا

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

سندھی،بلوچ،پشتون،اور اردو اسپیکنگ لاپتا افراد کے لواحقین کا گورنر ہائوس کے سامنے دھرنا

وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کے کنوینر سورٹھ لوہارنے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ، سندھ سجاگی فورم،ایچھ آرسی و دیگر سیاسی سماجی جمائتوں کی کال پر آج کراچی میں سندھ اور بلوچستان سمیت تمام لاپتا افراد کی بازیابی کے لیئے گورا قبرستان سے گورنر ہائوس تک ’لاپتا افراد آزادی مارچ‘ کرنے کے بعد گورنر ہائوس کے سامنے دھرنا لگادیا گیا۔

لاپتہ افراد لواحقین کراچی میں گورنر ہائوس کے سامنے دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔ فوٹو سنگر

جس مارچ کی وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی سربراہ سورٹھ لوہار،سندھ سجاگی فورم کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری سارنگ جویو، جیئے سندھ قومی محاذ (آریسر) کے مرکزی سینیئر وائس چیئرمین امیرآزاد پنہور، جیئے سندھ قومی پارٹی کے چیئرمین نواز خان زﺅر،جیئے سندھ قومی محاذ (بشیر خان) کے رہنما الاہی بخش بکک، جیئے سندھ تحریک (صفدر سرکی) کے رہنما مختیار سومرو، جیئے سندھ تحریک (کرنانی) کے رہنما سورہیہ سندھی، سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے رہنما منیر مگسی، وی ایم پی رہنما س±ہنی جویو، سسئی لوہار، نامور سندھی دانشور تاج جویو، دلشاد بھٹو سینیئیر،سندھ سبھا کے رہنما انعام عباسی، ایچھ آرسی پی سندھ کے صدر اسد بٹ، بلوچ مسنگ پرسنز کی رہنما ہانی گل بلوچ،سیما بلوچ، مہلب بلوچ،سندھ ساگر پارٹی کے رہنما سکندر تنیو،اردو اسپیکنگ لاپتا افراد کی رہنما نغمہ شیخ، لاپتا افراد کے لواحقین شازیا چانڈیو،اقصیٰ دایو، عبدالرزاق شر سمیت سندھ کے کئی سیاسی سماجی رہنماو¿ں نے رہنمائی کی۔

"لاپتہ افراد آزادی مارچ” گورا قبرستان سے گورنر ہائوس کی جانب رواں ہیں،فوٹو سنگر

رہنماو¿ں نے گورنر ہاو¿س کے سامنے دھرنے کو خطاب کرتی ہوئے کہا کہ سندھ و بلوچستان میں انسانی حقوق کی شدید پامالی ہو رہی ہے۔ سندھ سے سیکڑوں نوجوان سندھی اور اردو اسپیکنگ سندھی کارکنان کو پاکستانی ایجنسیوں نے جبری طور اٹھاکر لاپتا کردیا ہے۔

جن میں تازہ حیدرآباد سے جبری کیئے گئے حیدرآباد بار کاو¿نسل اور سندھ سجاگی فورم کے سربراہ ایڈوکیٹ محب آزاد لغاری اور سندھ کے دیگر شہروں سے عاقب چانڈیو،محفوظ نوتکانی،امتیاز خاصخیلی، ریاض خاصخیلی، امداد شاہ، بچل شاہ،مسعودشاہ،انصاف دایو،مرتضیٰ جونیجو،شاہد جونیجو،ایوب کاندھڑو،مرتضیٰ سولنگی،ستار ہکڑو، شادی خان سومرو، پٹھان خان زہرانی،ڈاکٹر فتھ محمد کھوسو،مہران میرانی، سہیل میرانی،بلاول چانڈیو، گلشیر ٹگڑ،بشیر شر، غلام رسول شر، نوید مگسی، کاشف ٹگڑ،نسیم بلوچ، اعجاز گاہو،شہزاد منگلو،علی نواب مہر سمیت سیکڑوں سندھی کارکنان شامل ہیں۔

لاپتہ افراد لواحقین کراچی میں گورنر ہائوس کے سامنے دھرنا دیئے ہوئے ہیں،فوٹو سنگر

جبکہ بلوچستان سے بلوچ قومپرست کارکنان ہزاروں کی تعداد میں جبری طور لاپتا کیئے گئے ہیں۔ اسی طرح خیبرپختونخواہ سے بھی ہزاروں پشتون جبری لاپتا کیئے گئے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر ان پر کوئی بھی مقدمہ ہے تو آپ انہیں اپنی ہی عدالتوں میں پیش کریں۔ ہم عدالتوں میں اپنے پیاروں کے کیس لڑیں گے۔دوسری صورت میں ہم یہ بدترین ریاستی جبر و تشدد برداشت نہیں کریں گے۔

ہم آج اس موقع پر انٹرنیشنل میڈیا کے ذریعے اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، یورپی یونین سمیت تمام عالمی برادری اور دنیا کی ساری انسانی حقوق کی تنظیموں اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری فریاد سنیں اور سندھ و بلوچستان میں پاکستانی فوجی ایجنسیوں کی جانب سے کیئے جانے والی شدید انسانی حقوق کی پامالی اور جبری گمشدگیوں کا نوٹس لیں اور ہم مظلوم قوموں کی اس ریاستی ظلم و جبر سے آزادی میں مدد کریں۔

لاپتہ افراد لواحقین "لاپتہ افراد آزادی مارچ” میں شریک ہیں جو گورا قبرستان سے گورنر ہائوس کی جانب رواں ہیں،فوٹو سنگر

احتجاج کے آخر میں وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی رہنما سورٹھ لوہار اور سندھ سجاگی فورم کے رہنما سارنگ جویو نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا آخری مارچ نہیں ہے۔

اگر اس مہینے میں ہماری لاپتا کارکنان کو ظاہر نہ کہا گیا تو ہمارا آنے والا مارچ و دھرنہ اب وزیراعلیٰ سندھ کے ہاو¿س کے سامنے ہوگا۔ جس کی تاریخ کا ہم بہت جلد اعلان کریں گے۔ اسی طرح ہمارے ’مسنگ پرسنز آزادی مارچ‘ کا یہ سلسہ حیدرآباد سے شروع ہوکر اب کراچی ، کراچی کے بعد لاڑکانہ، سکھر، نواب شاہ اور میرپور خاص میں بھی جاری رہے گا۔

Share This Article
Leave a Comment