ضلع آواران : کئی علاقوں میں فوجی آپریشن میں شدت ،سینکڑوں گھر نذر آتش

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ضلع آواران کے کئی علاقوں میں پچھلے دو دنوں سے پاکستانی فوج کی زمینی و فضائی آپریشن جاری ہے ۔

مقامی ذرائع نے ”سنگر“کو بتایا ہے کہ مشکے سولیر، گچک جوان تاک اور گنی ہوٹل میں سینکڑوںگھروں کو فوج نے نذر آتش کردیا ہے ۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ آواران گنی کور ہوٹل میں لال بخش نامی شخص کے گھروں کو فوج نے دوران آپریشن دوران جلادیا گیاجبکہ مشکے سولیر میں ملا عیسیٰ محلہ اورچٹوک میں میر ساہو کے گھروں کو جنگی ہیلی کاپٹروں نے شیلنگ کرنے کے بعد آگ لگائی ہے۔

واضع رہے کہ 2012 میر ساہو کے خاندان کے 7 افراد کوپاکستانی فوج کی جنگی ہیلی کاپٹروں گھروں پر شیلنگ کرکے شہیدکردیاتھاجن میں خواتین و بچے بھی شامل تھے ۔

مقامی ذرائع کے مطابق جاری فوجی آپریشن میںگچک پینکلانچ میں بیام اور شیر محمد نامی دو محلوں کومکمل طور پر نذر آتش کیا ہے۔جس سے علاقہ مکین بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں اور کئی افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

تاہم اب تک کسی قسم کی کوئی جانی نقصان یا گرفتاری گمشدگی کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔

آخری اطلاع تک مشکے تنک ،آواران دراسکی سے مزید فوج کی نفریاں داخل ہورہی ہیں جبکہ اس سے قبل بھی سینکڑوں فوجی ٹرک ان علاقوں میں داخل ہوئے تھے اور پچھلے دودن سے ہیلی کاپٹر بھی شیلنگ کر رہے ہیں۔

واضع رہے کہ پاکستانی فوج کو ضلع آواران میں سخت ترین بلوچ مسلح مزاحمت کا سامنا ہے اسی لئے وہ اپنی فضائیہ کی مدد سے ضلع آواران کے کئی علاقوں میں اس طرح کے بڑے پیمانے کی فوجی آپریشن کا آغاز کرتی ہے اور آبادیوں کو مکمل طور پر نذر آتش کرتی ہے اور پینے کے پانیوں میں زہریلا کیمیکل ملاتی ہے تاکہ لوگ اپنے علاقے اور گھر بارخالی کرکے نقل مکانی کریں ۔ کیونکہ فوج سول آبادیوں کو بلوچ مزاحمت کاروں کی طاقت سمجھتی ہے اسی لئے وہ فوج کے زیادہ نشانے پر ہیں ۔

Share This Article
Leave a Comment