ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان ریجنل آفس تربت مکران کی جانب سے ا س کے کوآرڈینیٹر غنی پرواز کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی ٹیم نے 8ستمبر2020ءکو پہلے تو شاہی تمپ جاکر محترمہ شاہینہ شاہین کے قتل پر ان کی والدہ مہرنگ ماہیکان، ماموں امجد رحیم اور دیگر قریبی خواتین و حضرات سے تعزیت کرلی اور پھر واپس آکر دفتر سے ایک پریس ریلیزبھی جاری کر لی۔
ایچ آر سی پی ریجنل آفس تربت مکران کی پریس ریلیز میں محترمہ شاہینہ شاہین کو ایک قومی سرمایہ قرار دے کر انہیں خراج تحسین اور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے، جبکہ ان کے المناک قتل کو ایک قومی سانحہ اور قومی نقصان قرار دے کر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور قتل کی شدید مذّمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور قرار واقعی سزائوں کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایچ آر سی پی ریجنل آفس تربت مکران کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ محترمہ شاہینہ شاہین ایک باکمال مصّورہ، ادیبہ، صحافی، انسانی حقوق کی کارکن اور خواتین تحریک کی کارکن تھیں، چاہیے تو یہ تھا کہ ان کی تعریفیں کی جاتیں اور انہیں عزت، حیثیت، درجہ اور انعامات سے نوازا جاتا مگر بدقسمتی سے ان کے جنونی شوہر ان کی قدر و منزلت نہ جان سکے، جس کی بناءپر اکیلے یا کسی کے ساتھ مل کر اور امکان اغلب یہی ہے کہ اپنے کسی یارِ غار کے ساتھ مل کر انہیں وحشیانہ طور پر قتل کردیا، اور اپنے ساتھی سمیت فرار ہوگیا جس پر جتنے بھی دلی رنج و افسوس کا اظہار کیا جائے کم ہے اور قتل اور قاتلوں کی جتنی بھی مذّمت کی جائے کم ہے۔
مذکورہ پریس ریلیز کے مطابق محترمہ شاہینہ شاہین کی شہرت کی ابتدا اس وقت ہوگئی، جب انہوں نے بعض ہم خیال خواتین کے ساتھ مل کر تربت میں ”دزگہار“ کے نام سے خواتین کی ایک تنظیم بنائی اور اس کے پلیٹ فارم پر بہت سی تعلیم یافتہ اور قابل خواتین کو متحد کرکے خواتین کے مساویانہ حقوق کی تحریک چلائی اور اس مقصد کے لئے طرح طرح کے پر وگرام منعقد کئے اور ساتھ ہی ساتھ اس تحریک کو بہتر طورپر آگے بڑھانے کی خاطر تنظیم کے ترجمان کے طورپر ماہنامہ”دزگہار“ کا اجراءبھی کیا جس میں لکھاری خواتین کی مختلف قسم کی تخلیقات شائع ہوتی رہیں ۔
پھر انہوں نے کوئٹہ جاکر بلوچستان یونیورسٹی کے فائن آرٹ ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیا اور فرسٹ ڈویڑن اور فرسٹ پوزیشن میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرلی، اسی دوران ان کے آرٹ کی کئی نمائشیں بھی ہوئیں اور وہ پی ٹی وی بولان میں کام بھی کرنے لگیں اور اس کی مارننگ ہوسٹ بھی رہیں،تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد جب وہ تربت واپس ہوئیں، تو کئی آرٹسٹ خواتین و حضرات کے ساتھ مل کر ”مکران اکیڈمی آف آرٹس“ قائم کی اور خود اس کی چیئر پرسن منتخب ہوگئیں اور پھر اسی اکیڈمی کے زیرِ اہتمام انہوں نے تربت میں ایک چار روزہ تاریخی پروگرام منعقد کیا جس کے دو حصّے تھے، جن میں ٹریننگ ورکشاپ اور ایگزیبیشن کے حصّے شامل تھے۔
ٹریننگ ورکشاپ میں 15لڑکوں اور 15لڑکیوں کو پینٹنگ یا مصّوری کی تربیت دی گئی جبکہ ایگزیبیشن میں ورکشاپ کی بنائی گئی تصاویر کو دیکھنے کے لئے سجایا گیا، اس چار روزہ آرٹ پروگرام کو دیکھنے کے لئے سینکڑوں خواتین و حضرات گئے جن میں بلوچستان سطح کی بعض اہم ترین شخصیات بھی شامل تھیں،پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ محترمہ شاہینہ شاہین کے مذکورہ کارناموں سے شاید بعض بدنیت اور بدطینت قسم کے عناصر گھبرا گئے، جنہوں نے ایک منصوبے کے تحت ان کے شوہر محراب گچکی کو استعمال کرتے ہوئے راستے سے ہٹانے کے لئے انہیں قتل کروا دیا۔
لہٰذا محترمہ شاہینہ شاہین کو ان کے کارناموں کے لئے خراجِ تحسین اور خراجِ عقیدت پیش کی جاتی ہے ان کے قتل اور قاتلوں کی شدید مذمت کی جاتی ہے اور قاتلوں کی فوری گرفتاری اور قرار واقعی سزائوں کا پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے۔