اسلام آباد سے لاپتہ ساجد گوندل کو ریاستی ایجنسیوں نے رہا کردیا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

اسلام آباد سے لاپتا ہونے والے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل بخیریت اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

ساجد گوندل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ‘میں گھر واپس آ گیا ہوں اور محفوظ ہوں، میں اپنے ان تمام دوستوں کا شکر گزار ہوں جو میرے لیے فکرمند تھے۔’

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں واضح کیا تھا کہ لوگوں کی گمشدگی ناقابل قبول ہے کیونکہ کسی بھی طرح کے جرائم سے نمٹنے کے لیے قانون موجود ہے، اس معاملے پر وزارت داخلہ اور آئی جی کو سخر احکامات دیے گئے تھے، ساجد گوندل کی باحفاظت واپسی خوش آئند ہے۔

واضح رہے کہ 4 ستمبر کو اسلام آباد سے لاپتا ہونے والے ساجد گوندل کی گاڑی چک شہزاد کے پارک روڈ واقع نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر (این اے آر سی) کے سامنے سے ملی اور ان کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ ان کا جوائنٹ ڈائریکٹر سے رابطہ نہیں ہورہا۔

جوائنٹ ڈائریکٹر کے اہلخانہ نے کہا تھا کہ ساجد گوندل چک شہزاد میں خاندان کے ملکیتی ڈیری فارم گئے تھے، تاہم فارم کے عملے کا کہنا ہے کہ وہ بعد ازاں وہاں سے چلے گئے تھے۔

اہلخانہ نے کہا تھا کہ ایس ای سی پی عہدیدار و سابق صحافی گھر نہیں لوٹے۔

بعد ازاں ساجد گوندل کی اہلیہ نے شہزاد ٹاو¿ن تھانے میں واقعے کی شکایت درج کرائی جس میں انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کے شوہر کو ‘نامعلوم افراد نے اغوا’ کر لیا گیا ہے۔

ساجد گوندل کی والدہ نے بیٹے کی گمشدگی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرائی تھی جس پر عدالت نے پیر تک سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر کو بازیاب کرانے کا حکم دیا تھا۔

درخواست کے مطابق شام ساڑھے 7 بجے ساجد گوندل شہزاد ٹاو¿ن اسلام آباد میں اپنے گھر سے سرکاری گاڑی میں باہر گئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کی کار اسلام آباد میں قومی زراعت تحقیقی مرکز کے قریب مین پارک روڈ پر کھڑی ہوئی ملی۔

عدالت میں ساجد گوندل کی والدہ نے بیان دیا کہ میرے بیٹے کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی، پارک روڈ سے بیٹے کو اغوا کیا گیا اور اغوا کار گاڑی وہیں چھوڑ گئے۔

جس پر چیف جسٹس ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد سے شہری کو اس طرح اغوا کیا جانا انتہائی تشویشناک ہے۔

پیر تک سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے عہدیدار کو بازیاب کرانے میں ناکامی پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکریٹری داخلہ، پولیس اور دارالحکومت کی انتظامیہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی دارالحکومت میں جبری گمشدگیوں کی بڑھتی تعداد پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی تھی کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی پالیسی وضع کرنے کے لیے اس معاملے کو وزیراعظم کے سامنے اٹھائیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایجنسیوں کی جبری گمشدگیوں کے واقعات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ایجنسیاں رئیل اسٹیٹ کاروبار کر رہی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment