بلوچستان میں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ڈیٹا کارڈز کے مطابق کوئٹہ اور ضلع کیچ سے دو کمسن چوپانوں سمیت مزید تین بلوچوں کو لاپتہ کر دیا گیا ہے۔
فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کی شناخت مصطفیٰ بلوچ ولد گل بلوچ (عمر 17 سال) پیشہ درزی (Tailor Master) ، سکونت قادری چوک، قمبرانی روڈ، کوئٹہ ، قمبرولد نزر محمد( عمر 14 سال) پیشہ چوپان (Shepherd) ،سکونت گومازی، تمپ، ضلع کیچ اورزبیر ولد داد کریم ( عمر 14 سال) پیشہ چوپان (Shepherd) ، سکونت گومازی، تمپ، ضلع کیچ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
مصطفیٰ بلوچ کو 29 ستمبر 2026، رات 2:00 بجے ان کے اپنے گھر قادری چوک، قمبرانی روڈ کوئٹہ سے آئی ایس آئی (ISI) اور سی ٹی ڈی (CTD) اہلکاروں نے حراست میں لیکر جبری لاپتہ کیا جبکہ قمبر اورزبیر کو 3 ستمبر 2026، دوپہر 12:00 بجے ازیان، تمپ، ضلع کیچ سے فرنٹیئر کور (FC) نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ 14 اور 17 سالہ بچوں اور محنت کشوں کو اس طرح اٹھا کر لاپتہ کرنا انسانی حقوق اور آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
بی وائی سی نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں پر فوری ایکشن لیں۔