بلوچستان کے علاقے کچھی (بولان)، قلات اور مستونگ میں پاکستانی فوج کی قافلوں اور اہلکاروں پر مسلح افراد کے حملوں اور شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔
ضلع کچھی (بولان) سے اطلاعات ہیں کہ علاقے ‘قلم الدین’ میں بلوچ مسلح افراد اور پاکستانی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ علاقے میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں، تاہم مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
دوسری جانب، ضلع قلات کے علاقے منگوچر میں ‘چھوٹانک’ کے قریب مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کے ایک ملٹری قافلے کو نشانہ بنایا۔
حملے کے نتیجے میں فورسز کے متعدد اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم حتمی اعداد و شمار سامنے نہیں آ سکے ہیں۔
اسی سلسلے میں ایک اور اہم واقعے میں مستونگ کے علاقے ‘گرگینہ میں بھی مسلح افراد نے پاکستانی ملٹری قافلے پر اچانک حملہ کر دیا۔
مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق واقعے کی جگہ پر کئی فوجی اہلکاروں کی لاشیں دیکھی گئی ہیں، جس سے سیکیورٹی فورسز کے شدید جانی نقصان کی تصدیق ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق تمام متاثرہ علاقوں کو فورسز نے گھیراؤ میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ مسلح تنظیموں یا سرکاری حکام کی جانب سے ان واقعات پر باضابطہ موقف کا انتظار ہے۔