پسنی کے ماہی گیروں کا غیر قانونی شکار اور دھمکیوں کے خلاف سمندر کی بندش کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے ضلع گوادر کے ساحلی پسنی کے علاقے کپر کے ماہی گیروں نے سربندر سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کی جانب سے ممنوعہ جالوں اور سرچ لائٹس کے ذریعے غیر قانونی شکار اور مخالفت پر ملنے والی سنگین دھمکیوں کے خلاف احتجاجاً سمندر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

پسنی پریس کلب میں راشد بلوچ کی سربراہی میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کپر کے ماہی گیروں نے کہا کہ سربندر کے کچھ ماہی گیر ایک سیاسی پارٹی کی پشت پناہی پر آئے روز کپر کے سمندری حدود میں آکر ممنوعہ طریقوں سے شکار کر رہے ہیں، جس سے مقامی ماہی گیروں کا روزگار شدید متاثر ہو رہا ہے۔

راشد بلوچ اور دیگر ماہی گیر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کی کہ ضلع گوادر کے ماہی گیروں نے باہمی مشاورت سے سمندری وسائل کے تحفظ اور نظم و ضبط کے لیے کچھ روایتی قوانین طے کر رکھے ہیں—جن کے تحت جمعہ کے روز شکار پر پابندی، رات کے وقت ماہی گیری سے گریز اور سرچ لائٹس کے استعمال پر مکمل ممانعت شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سربندر کے بعض ماہی گیر ان تمام طے شدہ ضوابط کو پامال کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ‘سربندر ماہی گیر اتحاد’ کو بھی باضابطہ آگاہ کیا گیا، مگر کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔

ماہی گیر رہنماؤں نے انکشاف کیا کہ 24 اکتوبر کی رات جب مخالف فریق ممنوعہ جالوں کے ساتھ کپر کے سمندر میں داخل ہوا تو انہیں روکنے پر کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس دوران مخالف فریق نے حملے کی کوشش کی، جس پر مقامی ماہی گیروں نے ممنوعہ جال ضبط کر لیے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد کپر کے ماہی گیروں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ 40 سے 50 اسپیڈ بوٹس کے ذریعے ان پر حملہ کیا جائے گا۔ مزید برآں، سربندر میں کھڑی کپر کے ماہی گیروں کی تقریباً 70 اسپیڈ بوٹس—جن کی مالیاتی قدر کروڑوں روپے ہے—کو نقصان پہنچانے اور تباہ کرنے کی کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

کپر کے ماہی گیروں نے واضح کیا کہ وہ پرامن شہری ہیں اور انہیں قانونی طریقے سے شکار کرنے والے کسی بھی ماہی گیر پر اعتراض نہیں، لیکن سیاسی پشت پناہی کی آڑ میں غنڈہ گردی اور سمندری وسائل کی تباہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے ڈپٹی کمشنر گوادر، محکمہ فشریز، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ کپر کے سمندر میں ممنوعہ جالوں اور سرچ لائٹس کے استعمال پر فوراً پابندی عائد کی جائے۔کروڑوں روپے کی کشتیوں کو نقصان پہنچانے اور جان سے مارنے کی مبینہ دھمکیوں کی بلا تاخیر غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔ سربندر میں موجود کپر کے ماہی گیروں کی ۷۰ کے قریب اسپیڈ بوٹس اور دیگر اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔اور دونوں فریقین کے درمیان پیدا شدہ کشیدگی کا فوری تدارک کر کے ماہی گیروں کو بلا خوف و خطر روزگار کمانے کی ضمانت دی جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article