بلوچستان کے اضلاع خضدار اور چاغی میں مسلح افراد کی جانب سے پاکستانی فوج کے 40 گاڑیوں پر مشتمل ایک بڑے قافلے اورریاستی ’ڈیتھ اسکواڈ‘ کے سرغنہ کو بم دھماکے اور فائرنگ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں فورسز اہلکاروں اور ڈیتھ اسکواڈ کارندوں کو شدید جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ذرائع کے مطابق ضلع خضدار کے علاقے کرخ میں اتوار کے روز ایک اہم پل کی تباہی کے بعد، بلوچ مسلح افراد نے ایک متبادل کچے راستے پر شام 6 بجے سے صبح 6 بجے تک مسلسل ناکہ بندی اور سنیپ چیکنگ (Snap-checking) جاری رکھی۔
آج صبح اسی متبادل راستے سے گزرنے والے پاکستانی فورسز کے تقریباً 40 گاڑیوں پر مشتمل بڑے ملٹری قافلے پر مسلح افراد نے اچانک گھات لگا کر حملہ کر دیا۔
حملے کے نتیجے میں فورسز اہلکاروں کے بھاری جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم حتمی اعداد و شمار سامنے آنا باقی ہیں۔
دوسری جانب، ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں کوہِ تران کے مقام پر مسلح افراد نے مقامی ذرائع کے مطابق ریاستی سرپرستی میں قائم ’ڈیتھ اسکواڈ‘ کے سرغنہ شاہجہان عرف شاہو کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔
اطلاعات کے مطابق شاہو کی گاڑی کو پہلے ایک خوفناک بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے فوراً بعد شدید مسلح حملہ کیا گیا۔
واقعے کے نتیجے میں مزید جانی و مالی نقصان کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، تاہم مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
زمینی ذرائعوں کے مطابق حملوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں فورسز کی نفری پہنچ چکی ہے اور ناکہ بندی سخت کر دی گئی ہے۔