مصر کی پارلیمان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے ملک کی فوج کو مدد فراہم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
گذشتہ ہفتے مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے پارلیمان سے درخواست کی تھی کہ وہ یمنی حوثیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مصر کے ’عرب اتحاد‘ کی جانب سے مدد کی درخواست منظور کرے۔
یہ فیصلہ قاہرہ کو خطے کے اس تنازع میں براہِ راست شامل کر سکتا ہے جس میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اضافے کے ساتھ شدت آ رہی ہے۔
مصر ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی بارہا مذمت کر چکا ہے، تاہم اس نے اب تک براہِ راست لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔
گذشتہ بدھ کو مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی اور انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ حسن رشاد نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو صدر السیسی کا خط پہنچانے کے لیے ریاض کا دورہ کیا تھا۔
خط میں مصری صدر نے واضح کیا تھا کہ مصر کی حمایت صرف سعودی عرب کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود ہوگی اور اس میں یمن پر حملے شامل نہیں ہوں گے۔
ملاقات کے بعد مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ مصر یمن کے تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے ’تمام مواقع‘ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔