بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے خلاف قرارداد پیش نہیں ہوسکی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے خلاف حزب اختلاف کے رکن مولانا ہدایت الرحمان کی قرارداد پیش نہیں ہوسکی۔

قرارداد میں اس نظام کے خاتمے کے ساتھ ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ سردار بولنے اور لکھنے پر بھی پابندی عائد کی جائے۔

سپیکر بلوچستان اسمبلی نے ایوان میں پیش ہونے سے قبل قرارداد کو نمٹاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں نہ صرف اس کے خلاف قانون منظور ہوا ہے بلکہ اعلیٰ عدالتوں نے بھی اس کے خلاف فیصلے دیے ہیں۔

اگرچہ یہ قرارداد اسمبلی کے اجلاس میں پیش نہیں ہوسکی تاہم ایوان میں اس پر قائد حزب اختلاف یونس زہری اور مولانا ہدایت الرحمان کے درمیان ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔

قرارداد کے متن کے مطابق بلوچستان کے بعض علاقوں میں سرداری اور قبائلی اثر و رسوخ کے نام پر بعض شہریوں کو بیگار، جبری مشقت، دھمکیوں، جبری فیصلوں، معاشی استحصال، ذاتی آزادیوں پر پابندی اور انصاف تک رسائی میں رکاوٹ جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔

قرارداد کے مطابق ’اس عمل سے انسانی وقار، شہری آزادیوں، بنیادی مساوات اور قانون کی حکمرانی کے اصول شدید متاثر ہو رہے ہیں۔‘

قرارداد کے مطابق یہ ایوان اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ بلوچستان کی قبائلی روایات، ثقافت، مہمان نوازی، باہمی احترام اور تاریخی تعاون ہماری تاریخی و سماجی شناخت کا حصہ ہیں۔ تاہم کسی بھی روایت، رسم، خاندانی حیثیت یا قبائلی اقتدار کو کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق سلب کرنے، خواتین اور بچوں پر ظلم کرنے، کمزور طبقات کو دبانے یا ریاستی قانون سے بالاتر ہونے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

قرارداد میں بلوچستان حکومت سے سفارش کی گئی تھی کہ بلوچستان سے فوری طور پر سرداری نظام کا خاتمہ کیا جائے اور بلوچستان میں سردار اور نواب کا لفظ بولنے اور لکھنے پر پابندی عائد کی جائے۔

سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی نے سرداری نظام کے خلاف قرارداد کو پیش نہیں ہونے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں نہ صرف اس کے خلاف ایک ایکٹ منظور ہوا ہے بلکہ اعلیٰ عدالتوں سے اس کے خلاف فیصلے بھی آئے ہیں جس کے باعث اس قرارداد کو نمٹا دیا جاتا ہے۔

اسمبلی کی کارروائی کو نمٹانے کے بعد مولانا ہدایت الرحمان نے پوائنٹ آف آرڈر پر قرارداد پر بات کرنا چاہی تو قائد حزب اختلاف یونس زہری نے کہا کہ قرارداد کو نمٹانے کے بعد اس پر بات کرنے کی کیوں اجازت دی جا رہی ہے۔

اس پر قائد حزب اختلاف اور مولانا ہدایت الرحمان کے درمیان گرما گرمی ہوئی اور قائد حزب اختلاف حملے کے لیے مولانا ہدایت الرحمان کی نشست کی جانب بڑھے لیکن دوسرے اراکین نے ان کو روک دیا۔

مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ وہ ترامیم کے ساتھ دوبارہ اس قرارداد کو ایوان میں لائیں گے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article