پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے دشت چیری میں سیکیورٹی اداروں کے ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک مزدور کی شہادت اور چھ دیگر افراد کے زخمی ہونے کے واقعے پر شدید غم و غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں پارٹی نے کہا ہے کہ ضلع کیچ کے علاقے دشت چیری کنچتی میں کھیتی باڑی اور محنت مزدوری کرنے والے افراد پر سیکیورٹی اداروں کے ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک پشتون مزدور حافظ خان آکاخیل شہید جبکہ چھ دیگر افراد زخمی ہوئے۔ شہید ہونے والے مزدور کی شناخت حافظ خان آکاخیل ولد ملا عبداللہ سکنہ کوئٹہ کچلاغ کے نام سے ہوئی ہے۔ زخمیوں میں حکیم ملاخیل ولد ناصر خان سکنہ کوئٹہ، عزت ولد محمد اکبر سکنہ کوئٹہ، گل عالم ملاخیل ولد نور محمد سکنہ کوئٹہ، احسان اللہ ولد محمد عالم سکنہ کوئٹہ، محمد عالم ولد نور محمد سکنہ کوئٹہ اور رحمت اللہ ولد محمد اکبر سکنہ کوئٹہ شامل ہیں ۔
پارٹی کا کہناتھا کہ یہ انتہائی افسوسناک صورتِ حال ہے کہ پشتون محنت کش اپنے گھروں اور آبائی علاقوں سے دور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں روزگار کی تلاش، کھیتی باڑی اور محنت مزدوری کے ذریعے اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت کرتے ہیں، لیکن انہیں تحفظ فراہم کرنے کے بجائے وہ ایسے واقعات کا شکار ہو رہے ہیں جن میں ان کی جانیں ضائع اور متعدد افراد زخمی ہو جاتے ہیں۔ غریب مزدوروں اور کھیتی باڑی کرنے والے نہتے شہریوں کی زندگیوں کو اس طرح خطرے میں ڈالنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ پشتون عوام پہلے ہی بدامنی، بے روزگاری، معاشی مشکلات اور عدم تحفظ جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ محنت کش طبقہ انتہائی مشکل حالات میں اپنے خاندانوں کی کفالت کرتا ہے، ایسے میں اگر وہ کام کی جگہوں پر بھی محفوظ نہ ہوں تو ان کے لیے زندگی مزید دشوار ہو جاتی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ایسے اقدامات، جن کے نتیجے میں عام شہریوں کی شہادت اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئیں، نہ صرف عوام میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں بلکہ ریاستی اداروں کی ذمہ داریوں اور عوام کے تحفظ کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔
پارٹی نے واضح کیا کہ کسی بھی سیکیورٹی کارروائی میں عام شہریوں، مزدوروں اور کھیتی باڑی کرنے والے محنت کشوں کی جانوں کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی کارروائی سے پہلے شہریوں کی موجودگی، ان کی شناخت اور ممکنہ جانی نقصان کو روکنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازم ہے۔ نہتے شہریوں کی جانوں کا ضیاع کسی صورت معمول کی بات قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی ایسے واقعات کو نظرانداز کیا جانا چاہیے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ دشت چیری کے اس افسوسناک واقعے کی فوری، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں، ڈرون حملے کے محرکات اور حالات کو عوام کے سامنے لایا جائے اور اگر کسی ادارے یا اہلکار کی غفلت، لاپروائی یا غیرقانونی اقدام ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ شہید مزدور کے خاندان کو مناسب معاوضہ اور مالی معاونت فراہم کی جائے، جبکہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات مہیا کرنے اور ان کے علاج معالجے کے تمام اخراجات حکومت کی جانب سے برداشت کرنے کو یقینی بنایا جائے۔
پارٹی نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں روزگار کے لیے آنے والے پشتون مزدوروں اور کھیتی باڑی کرنے والے محنت کشوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، اس واقعے کی مکمل تفصیلات اور تحقیقاتی نتائج سامنے لائے جائیں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح حکمت عملی اختیار کی جائے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے شہید حافظ خان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی۔ پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پشتون عوام، مزدوروں، کسانوں اور تمام مظلوم محنت کش طبقات کے جان و مال، بنیادی حقوق اور تحفظ کے لیے اپنی سیاسی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔