عدالتیں ظلم کا کھلونا ہیں،میں قانون کی نظر میں مجرم نہیں لیکن نام نہاد عدالتوں میں نہیں جاؤں گی، صبیحہ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ صحافی بی وائی سی اور پی ٹی ایم کو "مشکوک” قرار دے کر حق گوئی سے دامن بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان کا مؤقف واضح نہیں، جبکہ موجودہ عدالتی ہتھکنڈوں اور ریاستی رویے کو دیکھ کر حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ بی وائی سی کے رہنما جھوٹے مقدمات میں قید ہیں اور پی ٹی ایم کے رہنماؤں پر بھی بے بنیاد کیس بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ جیسے وکلاء، جو ہمیشہ مظلوموں کا مقدمہ لڑتے رہے، آج خود سخت سزاؤں کے ساتھ سلاخوں کے پیچھے قید ہیں۔

ریاستی طریقۂ کار پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سالوں کی جدوجہد کے بعد جب ایک مقدمے سے رہائی ملتی ہے تو جیل کے دروازے پر ہی دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ یہ انصاف نہیں بلکہ قید کو طول دینے کا ایک منظم نظام ہے، اور عدالتیں اس پورے کھیل میں کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کریک ڈاؤن کے ابتدائی دنوں میں کچھ ساتھیوں نے مشورہ دیا تھا کہ روپوشی کے بجائے قانون کا سامنا کیا جائے، لیکن ان کا جواب یہ ہے کہ وہ قانون سے نہیں ڈرتیں کیونکہ قانون کی نظر میں وہ مجرم نہیں ہیں؛ البتہ وہ اپنی مرضی سے ان عمارتوں میں قدم نہیں رکھیں گی جہاں قانون کا جنازہ نکل چکا ہے اور اس کے گرد بیٹھے عناصر اس عمل کو "عدالت” کا نام دے رہے ہیں۔

بیان کے آخر میں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے زور دیا کہ بار بار نئے مقدمات بنا کر قید کو طول دینا دراصل سیاسی کارکنوں کے مؤقف کی سب سے بڑی تائید ہے۔ یہی عمل واضح کرتا ہے کہ کون دہشت گرد اور جنگی منافع خور ہے اور کون حقیقی سیاسی کارکن، اس لیے جو لوگ آج بھی مؤقف واضح نہ ہونے کا کہتے ہیں، انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم کے سامنے غیر جانبداری کا مطلب دراصل ظالم کا ساتھ دینا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article