تنظیم اور تحریک کے تسلسل "میں "اور "ہم” کے مابین فرق | ازبل بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
11 Min Read

دنیا کی ہر سیاسی اور قومی تحریک اپنی بقا اور کامیابی کے لیے صرف جذبے کی نہیں بلکہ شعور، نظم و ضبط اور حکمتِ عملی کی بھی محتاج ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سی تحریکیں بیرونی دشمن کی طاقت سے کم اور اپنی داخلی کمزوریوں، بے احتیاطیوں اور شخصیت پرستی کی وجہ سے زیادہ نقصان اٹھاتی رہی ہیں۔ بلوچستان کی آزادی اور قومی بقا کی جدوجہد بھی ایسے ہی ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں قربانی، وفاداری اور جذبے کے ساتھ ساتھ رازداری، تنظیمی شعور اور اجتماعی ذمہ داری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں ہر لفظ، تصویر اور شناخت چند لمحوں میں نگرانی کے نظام کا حصہ بن سکتی ہے، یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا قومی جدوجہد کا مقصد اپنی ذات اور شناخت کو نمایاں کرنا ہے یا تحریک کے اجتماعی مفاد اور تسلسل کو یقینی بنانا؟ کیا ہماری توجہ فرد کی تشہیر پر ہونی چاہیے یا اس نظریے اور تنظیم پر جو افراد سے کہیں زیادہ دیرپا اور اہم ہے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جو ہمیں "میں” اور "ہم” کے درمیان فرق کو سمجھنے اور جدوجہد کے حقیقی تقاضوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اب اگر یہی سیکریسی بلوچ کی لینس سے دیکھیں تو پاکستان کے بے دریغ بجٹ اور اثاثوں کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔ انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ اس نے اپنی تمام جنگی و استخباراتی مشینری اور ٹیکنالوجی کو چوبیس گھنٹے بلوچ نوجوانوں کے پیچھے لگا رکھا ہے اور یہ کام انہوں نے بہت ہی سنجیدگی سے شروع کیا ہے۔

اب بلوچ نوجوان کیا کر رہے ہیں؟ بلوچ فرزند اب ماشاءاللہ اتنے عقل مند ہو چکے ہیں کہ انسٹاگرام، ٹک ٹاک پر اپنا نام رکھتے ہیں، اپنا علاقہ لکھتے ہیں، اپنی تصویر لگاتے ہیں، اور پھر کیا لکھتے ہیں؟ کہ میں مسلح جدوجہد کو سپورٹ کرتا ہوں، استاد میر احمد کے انقلابی گانوں پر اپنی تصویر ڈال کر کیپشن میں آزادی کے ایسے تحریر لکھ ڈالتے ہیں کہ عام پاکستانی تو کیا، ایجنسیوں کے بھی تن بدن میں آگ لگ جائے: “میں اپنی قوم کے لیے ہوں”، “میں آزادی چاہتا ہوں”، “میں اس شہید کا دوست ہوں”، “میں اس شہید کے نظریے سے متاثر ہوں”۔ آپ کو کیا لگتا ہے اس نوجوان کے پاس کتنا وقت ہوگا؟ زیادہ سے زیادہ دو دن؟ دو ہفتے؟ دو مہینے؟ چھ مہینے؟ قریباً تین ہفتے پہلے ایک ایسا ہی ساتھی نوجوان لاپتہ ہوا جسے ہم ہمیشہ اسی چیز کے لیے وارن کیا کرتے تھے۔

کیونکہ پھر سی ٹی ڈی، آئی ایس آئی، مقامی ڈیتھ اسکواڈز، ایم آئی کے آدمی بھی تو بیٹھے ہیں، ان کے پاس ہر علاقے میں مخبر موجود ہیں اور نوجوانوں کے ہزاروں نام ہیں۔ وہ ایک ایک کو سرچ کرتے ہیں، اور جیسے ہی وہ یہ پوسٹ دیکھتے ہیں تو فوری طور پر اس نوجوان کی فائل تیار ہو جاتی ہے۔ اور خواہ مخواہ ہونا بھی ایسا ہی چاہیے کیونکہ بدقسمتی سے دشمن کے پاس نہ تو ہماری جیسی سائیکی ہے، نہ بے وقوفانہ بہادری، اور نہ ہی وقت جسے وہ سوشل میڈیا کے بے مقصد بحث مباحثوں اور اپنی شناخت کے ساتھ ریڈیکل چیزیں پوسٹ کرنے میں لگا دے۔

اب وہ ٹارچر سیل میں ذلیل ہوتا امیچور فرزند کرے تو کیا کرے؟ جبکہ وہ مسلح یا سیاسی کسی طرح کی جدوجہد سے جڑا تک نہیں، اس کے لیے فائدہ مند ہونا دور کی بات۔ مگر دشمن کے پاس اس کی پوسٹس ثبوت ہیں، وہ ان چیزوں کو سپورٹ کرتا رہا ہے۔ اب کیا آپ کو نہیں لگتا، خدا نہ خواستہ، اس کی زندگی تحریک کے لیے بھی ناکارہ ہو سکتی ہے؟ تحریک چھوڑیں، اس کے اپنے لیے بھی ناکارہ۔ اب ہر روز ریاست کے کچھ غلیظ اہلکار اپنے بدبودار وجود کے ساتھ اس کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کریں، اس کے سفید ریش والدین کو تشدد کا نشانہ بنائیں، اس کی بہنوں کو بے عزت کریں، اس کے گھر سے قیمتی سامان چرا لے جائیں—کون ذمہ دار ہے؟ اگر سالوں سال اسے ٹارچر سیلز میں رکھا جائے؟ اگر سالوں سال اسے بند کمروں میں رکھا جائے؟ اگر اس کے ساتھیوں کے نام اس سے پوچھے جائیں؟ اور اس کی وجہ سے اور بے گناہ بھی انہی عقوبت خانوں کی زینت بن جائیں؟ کون ہوگا ذمہ دار آخر؟

کماش نے برسوں پہلے ایک نہایت اہم بات کہی تھی، جو میرے خیال میں آزادی کے لیے تشنہ ہر بلوچ کو اپنے ذہن میں نقش کر لینی چاہیے: “میں نے جتنا بھی مشاہدہ اور مطالعہ کیا ہے، اُس سے یہی سمجھ آیا کہ بلوچ تحریک کو آج تک جو بھی بڑا یا چھوٹا نقصان پہنچا، اُس کی بنیاد صرف اور صرف ہماری اپنی لاپروائی، آزاد خیالی، سستی اور بے احتیاطی رہی ہے۔

اور راز فاش کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ بیٹھ کر باتیں کریں یا معلومات بانٹیں؛ رازداری توڑنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ اپنی نشست، اپنے انداز، اپنے علاقے، اپنی سنگت، حتیٰ کہ اپنے فکر و خیالات سے بھی ایسے تاثرات اور امپریشن دیں جو پردے اٹھا دیں۔ کیونکہ تحریک کے اندر کی غفلت اور کمزوری کے بغیر کسی نقصان کا پہنچ جانا تقریباً ناممکن ہے۔”

آج بلوچستان میں آزادی کی جدوجہد میں ہر شخص کے لیے دو دنیائیں ہیں، اور ان دونوں کو ہر قیمت پر الگ الگ رکھنا ہے۔ پہلی دنیا: آپ اور وہ لوگ جو آپ کو ذاتی طور پر جانتے ہیں، جو آپ کے ساتھ جسمانی طور پر ہیں، آپ کے قریبی دوست، آپ کے ہمسائے، حتیٰ کہ آپ کی فیملی کے لوگ۔ یہاں کچھ نہ کہیں، یہاں محدود رہیں، کیونکہ جو لوگ آپ کو جانتے ہیں وہ آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں—عمداً یا سہواً، قصداً یا اتفاقاً، شعوری یا لاشعوری طور پر، براہِ راست یا بالواسطہ، ظاہر یا پوشیدہ، حق یا ناحق، قریب یا بعید۔ والدین کی پریشانی، ایک بہن کی بیوقوفی، ایک دوست کی غلطی، ان کے منہ سے نکلے چند الفاظ اور آپ ان ٹارچر سیلز میں، جہاں سے سلامت واپسی ایک اتفاق ہی ہو سکتی ہے محض۔

دوسری دنیا: آپ اور وہ لوگ جو صرف نظریے کی بنیاد پر جڑے ہوئے ہیں، جن کو آپ نہیں جانتے، جو آپ کو نہیں جانتے، جن سے آپ صرف انٹرنیٹ یا دیوان سرکلز میں ملتے ہیں۔ یہاں بات کر سکتے ہیں، مگر صرف جدوجہد کے لیے، اس سے زیادہ نہیں۔ یہ دونوں دنیائیں کبھی ملنی نہیں چاہئیں۔ جو آپ اپنے گھر میں ہیں وہ انٹرنیٹ پر نہیں۔

تو یہ بعید نہیں کہ بہت سے لوگ اسے ماننے کے لیے آمادہ نہ ہوں، اور بہت سوں کو یہ محض ایک سادہ سی بات محسوس ہو۔ مگر ایک حقیقت پسند کے نزدیک یہی وہ فکر ہے جو مسلح جدوجہد کی روح کو زندہ رکھتی ہے۔

رازداری کا مطلب یہ ہے کہ آپ دونوں دنیاؤں میں ایک مختلف شخص بن جائیں۔ آپ کے گھر میں آپ ایک ہیں، انٹرنیٹ پر آپ دوسرے ہیں۔ آپ کے نام مختلف ہو سکتے ہیں، آپ کے علاقے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن دونوں میں یہ ربط نہ ہو کہ وہ ایک ہی شخص ہے۔

اب اگر کوئی سوشل میڈیا کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا چاہے تو پہلے سیکھے۔ سیکھے کہ پروپیگنڈا کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے، کہ نیریٹو بنتا کیسے ہے، کہ لوگ کن چیزوں پر یقین کرتے ہیں اور کن چیزوں پر نہیں کرتے، کہ کیسے ایک اینانیمس نام سے بھی کوئی طاقتور پیغام دیا جا سکتا ہے۔

آخر میں بس یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اصل توجہ کس پر ہونی چاہیے۔ کیا ہم فرد کی نمائش میں الجھے رہیں یا تنظیم اور تحریک کے تسلسل کو مقدم رکھیں؟ سوال یہ ہے کہ مرکزِ نگاہ “میں” ہو یا “ہم”؟

اصل بات تو یہ ہے کہ جب نظریہ غالب آ جائے تو شخصیت پیچھے رہ جاتی ہے، اور جب شخصیت غالب آ جائے تو نظریہ دھندلا جاتا ہے۔ اگر انسان خود کو مسلسل مرکز میں رکھے تو اس کی شناخت شاید وقتی طور پر روشن رہے، مگر اس کے خیالات محدود ہو جاتے ہیں۔ اور اگر وہ خود کو نظریے کے اندر گم کر دے تو پھر اس کے خیالات وقت سے آگے نکل جاتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔ ٹیکنالوجی، معلومات، انٹیلیجنس سب کچھ اتنا ترقی یافتہ ہو گیا ہے کہ کوئی بھی راز زیادہ دیر تک راز نہیں رہ سکتا۔ لیکن اسی دنیا میں ایک اور حقیقت سلیپر سیل آپریشنز ہیں، اور ایک طرف ہمارے بلوچ بیٹے اور بیٹیاں ہیں جو کچھ کیے بغیر ہی اپنے جذبات کی وجہ سے ٹارچر سیلز میں ہیں۔

***

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article